سائنس کا نیا کارنامہ، پورا گانا ایک کیو آر کوڈ میں سمو دیا
میٹا کا اوپن سورس نیورل آڈیو کوڈیک این کوڈیک استعمال کیا گیا، جو روایتی انداز میں مکمل آڈیو محفوظ کرنے کے بجائے آواز کو مختصر ٹوکنز میں تبدیل کرتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک میکر نے دو منٹ طویل گانے کو انتہائی کم حجم میں محفوظ کرکے اسے کاغذ پر منتقل کرنے کا دلچسپ تجربہ کیا ہے۔ منصوبے کے تحت تقریباً 2.9 ایم بی کی آڈیو فائل کو گھٹا کر صرف 21 کلو بائٹ کے قریب کردیا گیا، جس کے بعد اسے کاغذ پر آٹھ کیو آر کوڈز کی صورت میں پرنٹ کیا گیا۔
اس تجربے کے لیے میٹا کا اوپن سورس نیورل آڈیو کوڈیک این کوڈیک استعمال کیا گیا، جو روایتی انداز میں مکمل آڈیو محفوظ کرنے کے بجائے آواز کو مختصر ٹوکنز میں تبدیل کرتا ہے۔ بعد میں یہی ٹوکنز مخصوص ڈیکوڈر کے ذریعے دوبارہ آڈیو میں تبدیل کیے جاتے ہیں۔
میکر کے مطابق اس طریقے سے 2.9 ایم بی کی اصل آڈیو تقریباً 21 کلو بائٹ تک محدود ہوگئی، یعنی فائل کے حجم میں تقریباً ایک ہزار گنا کمی واقع ہوئی۔ اتنی کم مقدار میں ڈیٹا ہونے کے باعث اسے آٹھ کیو آر کوڈز میں تقسیم کرکے ایک کاغذی شکل دی گئی۔
ایک کیو آر کوڈ میں تقریباً 3 کلو بائٹ ڈیٹا
پروجیکٹ کے مطابق ہر کیو آر کوڈ میں تقریباً 3 کلو بائٹ بائنری ڈیٹا محفوظ کیا جاسکتا ہے، جبکہ تجربے میں اس حد کو تقریباً 3.3 کلو بائٹ تک استعمال کیا گیا۔ آڈیو کے ٹوکنز کو آٹھ حصوں میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے چار کاغذ کے ایک رخ اور چار دوسری جانب رکھے گئے۔
تاہم اس نظام میں ڈیٹا کے ضائع ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ چونکہ کیو آر کوڈز میں کم سے کم خرابی درست کرنے کی سطح استعمال کی گئی، اس لیے کسی ایک کوڈ کو نقصان پہنچنے کی صورت میں پوری آڈیو فائل متاثر ہوسکتی ہے۔
گانا چلانے کے لیے نیورل نیٹ ورک ضروری
اس تجربے کی خاص بات یہ ہے کہ کیو آر کوڈز میں اصل آڈیو محفوظ نہیں بلکہ این کوڈیک کے ذریعے تیار کیے گئے ٹوکنز موجود ہیں۔ اس لیے صرف کیو آر کوڈ اسکین کرنا کافی نہیں۔
گانا دوبارہ سننے کے لیے اسی ٹیکنالوجی کا ڈیکوڈر درکار ہوگا، جو ان ٹوکنز کو آڈیو میں تبدیل کرے گا۔ تجربے میں 24 کلو ہرٹز ڈیکوڈر استعمال کیا گیا۔
21 کلو بائٹ فائل ریڈیو کے ذریعے بھی منتقل
میکر نے اسی تقریباً 21 کلو بائٹ فائل کو دو ای ایس پی 32 بورڈز کے درمیان لورا ریڈیو کے ذریعے منتقل کرنے کا تجربہ بھی کیا۔ اس نظام میں فائل کو 160 بائٹ کے پیکٹس میں تقسیم کیا گیا اور ہر پیکٹ کی وصولی کی تصدیق کے بعد اگلا پیکٹ بھیجا گیا۔
انتقال کے دوران ہر پیکٹ کے بعد تقریباً 40 سیکنڈ کا وقفہ رکھا گیا، جس کے باعث مکمل فائل منتقل ہونے میں تقریباً 90 منٹ لگے۔
کاغذی ذخیرہ، مگر نئی شرط کے ساتھ
اس منصوبے نے ڈیجیٹل مواد کو کاغذ پر محفوظ کرنے کے پرانے تصور کو جدید مصنوعی ذہانت کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ تاہم ماہرین کے لیے دلچسپ سوال یہ ہے کہ کاغذ پر محفوظ گانے کی اصل بقا صرف کاغذ پر منحصر نہیں۔
کیو آر کوڈز طویل عرصے تک محفوظ رہ سکتے ہیں، لیکن گانے کو دوبارہ سننے کے لیے این کوڈیک کا درست ڈیکوڈر اور متعلقہ نیورل نیٹ ورک بھی دستیاب ہونا ضروری ہے۔
یوں بظاہر یہ گانا کاغذ پر محفوظ ہے، لیکن حقیقت میں کاغذ صرف آڈیو کو دوبارہ تشکیل دینے کے لیے درکار ڈیجیٹل معلومات کو محفوظ کر رہا ہے۔