عمران خان کی صحت مقدم، عدالتی حکم پر عمل ہوگا،سہیل آفریدی

عدالتوں کا بنیادی کام انصاف فراہم کرنا ہے، اگر عدالتوں سے انصاف نہ ملے تو عوام کہاں جائیں گے۔

August 18, 2026 · قومی

اسلام آباد: سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور ان کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کے حکم کے بعد تحریک انصاف کی قیادت نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد میں تعاون کی یقین دہانی کرادی۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کو عدالت سے انصاف ملا ہے اور امید ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر جلد عملدرآمد کیا جائے گا۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عدالتوں کا بنیادی کام انصاف فراہم کرنا ہے، اگر عدالتوں سے انصاف نہ ملے تو عوام کہاں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے اطراف پی ٹی آئی کارکنوں کا کوئی اجتماع نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکن عدالتی احکامات کا احترام کریں گے اور ہسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال خراب نہیں ہونے دی جائے گی۔

دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے حکم سے امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی ہے۔

ان کے مطابق سپریم کورٹ نے ریاست کے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ عمران خان کی صحت کو ترجیح دی جائے اور انہیں مقررہ مدت کے اندر اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔

سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ عدالت نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے، جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیکل بورڈ عمران خان کی صحت کا تفصیلی جائزہ لے گا اور ان کے طبی مسائل کی وجوہات کا تعین کرے گا، جن میں بلڈ پریشر اور آنکھ سے متعلق سامنے آنے والے طبی مسائل بھی شامل ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ تحریک انصاف عدالتی فیصلے کا احترام کرے گی اور ہسپتال کے اطراف کارکنوں کا ہجوم جمع نہیں ہونے دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ان کی ہسپتال منتقلی اور طبی معائنے کے حوالے سے احکامات جاری کیے تھے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی تھی کہ عمران خان کی صحت کے معاملے کو سیاسی سرگرمیوں سے الگ رکھا جائے۔