ناچنے والی پراسرار وبا جس کا راز آج تک نہ مل سکا

1518 میں فرانس کا ایک شہر بری طرح اس کی لپیٹ میں آیا

August 20, 2026 · امت خاص

ڈانسنگ پلیگ

 

 رقص ایک وبا بھی ہے۔ ایسی وبا جو بڑی تعداد میں لوگوں کو ناچتے رہنے پر مجبور کر دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ ناچ ناچ کر مر جاتے ہیں۔ تاریخ ایسے ایک ہولناک واقعے کے بارے میں بتاتی ہے، جس نے سولہویں صدی کے یورپ کو حیرت اور خوف میں مبتلا کر دیا تھا۔

سال تھا 1518، مقام تھا فرانس کا شہر اسٹراسبرگ۔ جولائی کے ایک دن ایک عورت، اچانک سڑک پر ناچنے لگی۔ نہ وہاں موسیقی تھی، نہ کوئی جشن، مگر وہ مسلسل ناچتی رہی۔ تھک کر گرتی، اور پھر دوبارہ ناچنا شروع کر دیتی۔چند دنوں میں درجنوں لوگ اس عجیب و غریب کیفیت کا شکار ہوگئے اور کچھ ہی عرصے میں تعداد سینکڑوں تک پہنچ گئی۔
لگ بھگ پوراقصبہ ہی ناچنے لگاتھا۔

لوگ گھنٹوں نہیں، بلکہ کئی کئی دن ناچتے رہے۔ بعض کے پاؤں زخمی ہوگئے، کچھ بے جان اور نڈھال ہوکر گر پڑے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق کتنے ہی لوگ دل کا دورہ پڑنے یا فالج سے بھی مر گئے۔
مزید تفصیل کے لیے وڈیو دیکھیں۔