دینی مدرسہ دنیاکی پہلی تسلیم شدہ یونیورسٹی کے طورپرآج بھی موجود

نویں صدی عیسوی میں مراکش کا شہر فاس علم، تجارت اور تہذیب کا ایک اہم مرکز تھا

August 20, 2026 · امت خاص

 

دنیا کی پہلی تسلیم شدہ یونیورسٹی ایک اسلامی یونیورسٹی تھی، اصل میں یہ ایک مدرسہ تھا۔اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے پیچھے ایک مسلمان خاتون کا نام ہے۔

نویں صدی عیسوی میں مراکش کا شہر فاس علم، تجارت اور تہذیب کا ایک اہم مرکز تھا۔یہیں859 عیسوی میں فاطمہ الفہری نے القروین مسجد کی بنیاد رکھی۔

یہ مسجد رفتہ رفتہ ایک ایسے علمی مرکز میں تبدیل ہوئی جہاں اسلامی علوم کے ساتھ فلسفہ، ریاضی، فلکیات، طب اور زبانیں بھی پڑھائی جانے لگیں۔یعنی ایک مسجد پہلےمدرسہ بنی، اور پھر ایسا علمی ادارہ بن گئی جسے تاریخ میں دنیا کے قدیم ترین مسلسل فعال، ڈگری دینے والے تعلیمی اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

صدیاں گزرتی گئیں، مگر فاس کی یہ علمی روایت ختم نہیں ہوئی۔ابن خلدون اورکئی دوسرے نامور علما اس درس گاہ سے وابستہ رہے۔یہاں تک کہ غیر مسلم اہلِ علم بھی۔ یہودی فلسفی میمونائیڈز کا نام بھی القروین سے منسوب کیا جاتا ہے۔
علمی تاریخ کی دلچسپ کہانی کے بارے میں مزید جاننے کے لیے وڈیو دیکھیں۔