ایرانی صدر سے اسپیکر اور عدلیہ کے سربراہ کی اہم ملاقات
تینوں حکومتی شاخوں کے سربراہان نے ریاستی اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون مزید مؤثر بنانے پر زور دیا
فوٹو سوشل میڈیا (ایکس)
ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں امریکا کی جانب سے بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے تناظر میں ملک کی صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ملاقات میں سیاسی، معاشی اور سماجی حالات کا جائزہ لیا گیا۔ تینوں حکومتی شاخوں کے سربراہان نے ریاستی اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون مزید مؤثر بنانے پر زور دیا تاکہ معاشی دباؤ کے اثرات کو عوام تک کم سے کم پہنچنے دیا جائے۔
ملاقات کے دوران کم آمدنی والے اور معاشی مشکلات سے متاثرہ طبقات کی مدد کے لیے عملی اقدامات پر بھی بات ہوئی۔ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ حالات میں قومی مفادات کا تحفظ اولین ترجیح رہے گا۔
دوسری جانب صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران دباؤ کے سامنے اپنی خودمختاری اور وقار پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، تاہم مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ملک کو موجودہ کشیدہ صورتحال سے نکالنے کے لیے فیصلے دانشمندی، تدبر اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد، ریاستی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور عوامی مشکلات میں کمی انتہائی اہم ہے۔
ایران کو ایک جانب بیرونی معاشی دباؤ کا سامنا ہے تو دوسری طرف اندرونی سطح پر بڑھتے ہوئے معاشی مسائل بھی حکومت کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ حکام کی جانب سے موجودہ صورتحال کے اثرات کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور جاری ہے۔