نائیجیریا میں مسلح گروہوں کے حملے،40 سے زائد افراد ہلاک،100 سے زیادہ اغوا
حملہ آوروں نے ڈیکارا، گیدان زانا، سابون گیدا اور ماساکا میں کارروائیاں کیں۔
فوٹو سوشل میڈیا(ایکس)
نائیجیریا کی وسطی ریاست نائجر میں مسلح افراد نے متعدد دیہات پر حملے کیے، جن کے نتیجے میں 40 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 100 سے زیادہ افراد کو اغوا کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
پولیس کے مطابق فوجی طرز کے لباس پہنے مسلح افراد نے نماز کے بعد بورگو لوکل گورنمنٹ ایریا کے کئی دیہات کو نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے ڈیکارا، گیدان زانا، سابون گیدا اور ماساکا میں کارروائیاں کیں۔
پولیس ترجمان واسیو ابیودون کے مطابق ابتدائی طور پر شبہ ہے کہ حملوں میں ایسے مسلح جرائم پیشہ گروہ ملوث ہیں جو نائیجیریا کے مختلف علاقوں میں اغوا برائے تاوان اور لوٹ مار کی وارداتیں کرتے ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق مسلح حملہ آور نماز کے بعد ڈیکارا میں داخل ہوئے اور متعدد لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنے کے بعد انہیں قریبی جنگلات کی جانب لے گئے۔ اس کے بعد حملہ آور دیگر قریبی دیہات کی طرف روانہ ہوگئے۔
مقامی رکن اسمبلی جعفر محمد شیٹی مان بورگو نے بھی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بورگو کے دور دراز علاقوں میں مسلح گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ علاقہ نائیجیریا کی ریاستوں کیبی اور کوارا کے قریب جبکہ پڑوسی ملک بینن کی سرحد سے بھی متصل ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں پولیس نے بورگو کے مختلف دیہات سے اغوا کیے گئے 145 افراد کی بازیابی کا اعلان کیا تھا۔ حکام کے مطابق ایک بڑے سکیورٹی آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 308 مغویوں کو بازیاب کرایا گیا، جن میں ریاست کوارا سے اغوا کیے گئے 160 سے زائد افراد بھی شامل تھے۔
تازہ حملوں نے نائجر ریاست اور شمالی وسطی نائیجیریا میں جاری سکیورٹی بحران کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے، جہاں مسلح گروہ دور دراز جنگلات اور کمزور سکیورٹی انتظامات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم کرتے ہیں۔