امریکی معاشی دباؤ فوجی ناکامی کا اعتراف ہے: ایرانی پاسداران انقلاب
اگر امریکا فوجی محاذ پر اپنے مقاصد حاصل کر چکا ہوتا تو اسے ایران کے خلاف معاشی دباؤ کا سہارا لینے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
فائل فوٹو
ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف نئی معاشی کارروائی کے اعلان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے معاشی دباؤ بڑھانے کا فیصلہ دراصل فوجی محاذ پر ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اعلان پر تبصرہ کیا۔ ان کے مطابق اگر امریکا فوجی محاذ پر اپنے مقاصد حاصل کر چکا ہوتا تو اسے ایران کے خلاف معاشی دباؤ کا سہارا لینے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ تہران کے خلاف معاشی پابندیاں کوئی نئی حکمت عملی نہیں۔ ان کے بقول گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران کی معیشت کے مختلف شعبوں کو پابندیوں کا سامنا ہے، اس کے باوجود ایران نے اپنی معاشی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں۔
حسین محبی نے کہا کہ ایران نے کسی بھی ممکنہ جارحانہ اقدام سے نمٹنے کے لیے مختلف منصوبے تیار کر رکھے ہیں۔ ان کے مطابق معاشی جنگ بھی مخالف قوتوں کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے اور ایران اس کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تہران عالمی سطح پر دیگر ممالک کے ساتھ معاشی روابط کو فروغ دینے کے راستے تلاش کر سکتا ہے اور امریکی معاشی دباؤ کے باوجود اپنی اقتصادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے متبادل ذرائع موجود ہیں۔