اسلام آباد دھرنے کی تیاریاں: پی ٹی آئی کارکنوں نے بوریا بستر باندھ لیا
لمبے دھرنے کیلئے خوراک- ادویات اور دیگر سامان جمع کیا جانے لگا- آنسو گیس سے بچنے -راستے کھولنے کیلئے کرینیں بھی ساتھ لانے کا پلان!
فائل فوٹو
محمد قاسم :
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے 27 ستمبر کو لانگ مارچ کے حوالے سے گرین سگنل ملنے کے بعد کارکنوں نے وفاقی دارالحکومت میں لمبے قیام کیلئے بوریا بستر تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ آنسو گیس سے بچنے کیلئے بھی حکمت عملی طے کی جانے لگی ہے اور اس حوالے سے کارکنوں نے پریکٹس بھی شروع کر دی ہے۔
پارٹی نے متبادل پلان بھی بنانے شروع کر دیئے ہیں اور راستوں کی بندش سمیت رکاوٹوں کو ہٹانے کیلئے کرینیں ساتھ لے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ گرفتاریوں سے بچنے کیلئے بھی حکمت عملی بنائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پشاور سمیت صوبی بھر میں ورکرز کو متحرک کرنے کیلئے وزیراعلیٰ اور پارٹی کے دیگر رہنما سرگرم ہو گئے ہیں۔
گزشتہ روز وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ستائیس ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں ضلع ہنگو کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے کہا کہ اعلان کردہ 20 لاکھ افراد کے بجائے اب 40 لاکھ افراد اسلام آباد لے کر جائیں گے۔لانگ مارچ ضرور ہوگا اور قیادت وہ خود کریں گے۔ جس کے بعد ذرائع کے مطابق کارکنوں نے اسلام آباد میں لمبے قیام کیلئے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بوریا بستر تیار کرنا شروع کر دیا ہے اور مختلف اشیائے خورونوش سمیت ادویات اور دیگر سامان بھی ساتھ لے جانے کیلئے ابھی سے تیاریاں کر رہے ہیں۔ آنسو گیس سے بچنے کیلئے بھی پلاننگ شروع کر دی گئی ہے اور پشاور سے پنجاب کی حدود میں داخل ہوتے وقت پولیس کے لاٹھی چارج اور گرفتاریو ں سے بچنے کے پلان بھی مرتب کیے جارہے ہیں۔
ذرائع کے بقول قوی امکان ہے کہ آنسو گیس سے بچنے کیلئے کارکن ماسک لیکر جائیں۔ جبکہ پانی اور نمک کا بھی خصوصی انتظام کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق صوابی سے آگے اٹک کے مقام پر ممکنہ رکاوٹوں کو ہٹانے کیلئے خیبرپختونخوا سے ہی کرینیں ساتھ لے جانے کا بھی امکان ہے۔
واضح رہے کہ پہلے بھی احتجاج اور لانگ مارچ کے موقع پر صوبائی حکومت اپنے ساتھ کرینیں لے جا چکی ہے۔ جس کے ذریعے بڑے کنٹینرز راستے سے ہٹائے گئے۔ اب اسی تجربے کو دوبارہ استعمال کیا جائے گا۔ دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی نے لانگ مارچ کے حوالے سے مختلف پلانز بھی بنانا شروع کر دیئے ہیں۔ کارکنوں کو متحرک کیا جارہا ہے کہ لانگ مارچ کو ہر صورت کامیاب بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہنگو میں خطاب کے دوران کہا کہ ’اس دفعہ ہم نے کشتیاں جلا دی ہیں اور ستائیس ستمبر کو کامیاب ہوکر لوٹیں گے۔ میں خود لیڈ کروں گا اور آپ نے بھی تیار رہنا ہے، کہ اس بار تیسرا کوئی راستہ نہیں۔ ادھر لانگ مارچ کے حوالے سے پشاور میں تاحال کوئی خاص گہما گہمی نظر نہیں آرہی۔
صوبے کے دیگر اضلاع میں تحریک انصاف ریلیوں کا انعقاد کر رہی ہے اور وزیراعلیٰ خود اس کو لیڈ کر رہے ہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق ریلیوں میں عوام کی عدم دلچسپی پی ٹی آئی کیلئے مایوس کن ہے۔ کیونکہ چالیس لاکھ افراد کو اسلام آباد لے جانے کے دعوے کرنے والے ریلیوں میں چار ہزار بندے بھی جمع نہیں کر پا رہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ضلع خیبر کے بعد ہنگو میں بھی ریلی جن راستوں سے گزری وہاں پہلے سے ہی رش لگا ہوا تھا اور ویڈیوز و تصاویر کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ ہزاروں افراد ریلی میں شریک ہیں۔ پشاور کے شہری پی ٹی آئی سے زیادہ جماعت اسلامی کے دھرنے کی حمایت اور اس میں شرکت کر رہے ہیں۔