47 سال بعد شام کا نام امریکی دہشت گردی فہرست سے نکال دیا گیا

شام باہمی احترام، شفافیت اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر بہتر تعلقات کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔شامی وزیر خارجہ

August 25, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکا نے کئی دہائیوں بعد شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد شام کی موجودہ حکومت کی پالیسیوں اور دہشت گرد گروہوں سے علیحدگی کے مؤقف کو تسلیم کرنا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق شام کی حکومت کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں سے لاتعلقی کے اعلان کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکا نے شام کے صدر احمد الشرع کی سابق تنظیم حیات تحریر الشام کو بھی اپنی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے امریکی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام باہمی احترام، شفافیت اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر بہتر تعلقات کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

دوسری جانب شام اور اسرائیل کے درمیان تعلقات بدستور کشیدہ ہیں۔ شامی وزیر خارجہ نے حال ہی میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کسی بھی سکیورٹی معاہدے سے پہلے اسرائیلی کارروائیاں رکنا ضروری ہیں۔

شام کے مطابق موجودہ حالات میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا ممکن نہیں، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مستقبل کے مذاکرات اور سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے صورتحال غیر یقینی ہے۔