جے16 بمقابلہ جے10 سی، کون سا جنگی طیارہ زیادہ طاقتور؟

جے-16 دو انجنوں والا بھاری جنگی طیارہ ہے۔ جے-16 میں دو نشستیں ہوتی ہیں اور اسے فضائی برتری، زمینی اہداف کو نشانہ بنانے اور طویل فاصلے کے مشنز سمیت مختلف کرداروں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

August 25, 2026 · امت خاص
فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان ایئر فورس میں شامل چینی ساختہ جے-10 سی کے بعد چین کا ایک اور جدید جنگی طیارہ جے-16 بھی دفاعی ماہرین اور عسکری تجزیہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ دونوں طیاروں کا کردار اور ساخت مختلف ہے، اسی لیے ان کا موازنہ جدید فضائی جنگ کے تناظر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔

جے-10 سی ایک نسبتاً ہلکا، سنگل انجن اور کثیرالمقاصد جنگی طیارہ ہے، جبکہ جے-16 دو انجنوں والا بھاری جنگی طیارہ ہے۔ جے-16 میں دو نشستیں ہوتی ہیں اور اسے فضائی برتری، زمینی اہداف کو نشانہ بنانے اور طویل فاصلے کے مشنز سمیت مختلف کرداروں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

جے-16 کی نمایاں خصوصیات میں اس کی زیادہ ہتھیار برداری، بڑے ایندھن کے ذخائر اور طویل فاصلے کے مشنز کی صلاحیت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جے-16 ڈی نامی برقی جنگی قسم دشمن کے ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کے خلاف الیکٹرانک وارفیئر کے لیے تیار کی گئی ہے۔

دوسری جانب جے-10 سی کا نسبتاً کم وزن اور سنگل انجن ڈیزائن اسے زیادہ پھرتیلا طیارہ بناتا ہے۔ اس میں جدید ریڈار، میزائل اور دیگر جدید جنگی نظام استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ پاکستان ایئر فورس اسے اہم کثیرالمقاصد جنگی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق جے-16 اور جے-10 سی کو صرف یہ کہہ کر ایک دوسرے سے بہتر قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ دونوں مختلف ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے ہیں۔ جے-16 بھاری ہتھیاروں اور طویل فاصلے کے مشنز میں زیادہ موزوں ہے، جبکہ جے-10 سی اپنی پھرتی، نسبتاً کم جسامت اور کثیرالمقاصد صلاحیتوں کی وجہ سے نمایاں ہے۔

جے-16 ڈی کی برقی جنگی صلاحیت اسے جدید فضائی کارروائیوں میں مزید اہم بناتی ہے، جبکہ جے-10 سی کو پاکستان میں جدید فضائی دفاعی نظام کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔

چین کے جدید جنگی طیاروں میں جے-35 بھی عالمی سطح پر خاص توجہ حاصل کر رہا ہے۔ یہ پانچویں نسل کا اسٹیلتھ جنگی طیارہ ہے اور اس کی ٹیکنالوجی جے-10 سی اور جے-16 سے مختلف ہے۔

یوں جے-16 اور جے-10 سی میں اصل فرق طاقت سے زیادہ ان کے کردار، جسامت، ہتھیار اٹھانے کی صلاحیت، رینج اور جنگی استعمال کا ہے۔ دونوں طیارے جدید فضائی جنگ میں اپنی اپنی خصوصیات کے باعث اہم سمجھے جاتے ہیں۔