گلگت بلتستان کی نیاٹ ویلی میں گلیشیئرکاایک حصہ پھٹ گیا،باقی پردراڑیں نمودار

مقامی آبادی کو شدید خطرہ۔ علاقے میں سخت خوف و ہراس

August 25, 2026 · امت خاص

تصویر: سوشل میڈیا

 

گلگت بلتستان کے علاقے نیاٹ ویلی میں ایک بڑے برفانی تودے کا کچھ حصہ پھٹنے سے مصنوعی جھیل بن گئی ہے۔ اس واقعے کے باعث قریبی زمینیں اور فصلیں متاثر ہوئی ہیں، صورتحال تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق گلیشیئر میں خوفناک دراڑیں پڑ چکی ہیں اور خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔ سابق حکومتی ترجمان فیض اللہ فراق نے خبردار کیا ہے کہ تودہ مزید ٹوٹنے سے مقامی آبادی کو بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے۔

گلیشیئرکا ایک حصہ پھٹنے سے علاقے میں سخت خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے اور رہائشیوں نے حکومت سے ممکنہ خطرے کے پیش نظر فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ گلیشیئر میں پڑنے والی دراڑوں کی تکنیکی نگرانی کی جائے اور جانی تحفظ کا بندوبست کیا جائے۔ حکام کے مطابق گلیشیئر میں کریکس اور جھیل کے پھیلاؤ پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

مقامی حکام کے مطابق حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے ۔ مقامی اسسٹنٹ کمشنر منظور احمد نے شہریوں کو جھیل سے دور رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے میں طبی اور امدادی ٹیموں کی موجودگی ضروری ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ 2001 میں بھی یہی گلیشیئر پھٹنے سے شدید سیلاب آیا تھا اور ایسی ہی جھیل بنی تھی۔ تقریباً 25 سال بعد آج پھر وہی جگہ گلیشیئر پھٹنے سے جھیل بن چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق زیادہ درجہ حرارت اور بارشوں کا امتزاج برف اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا سبب بنتا ہے۔ مارچ سے ستمبر 2026 کے دوران شمالی پاکستان میں درجہ حرارت بڑھنے سمیت کئی موسمیاتی عوامل کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے پر ایڈوائزری پہلے ہی موجود تھی۔