بیف برگر ٹرمپ کے گلے پڑ گیا

مقبول ترین خوراک کی قیمتیں بڑھنے پر امریکی شہری حکومت پر مشتعل- ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح 40 فیصد تک پہنچ گئی-

August 25, 2026 · امت خاص
فائل فوٹو

فائل فوٹو

میگزین رپورٹ :
بیف برگر مہنگا ہونے پرامریکی عوام ٹرمپ انتظامیہ پر بھڑک اٹھے۔ عالمی میڈیا کے مطابق امریکہ میں بیف اور برگر سب سے زیادہ کھائی جانے والی خوراک ہے۔ ح

الیہ امریکی عوامی پولز اشارہ کررہے ہیں کہ غذائی اشیا بالخصوص بیف اور بیف برگر کی ریکارڈ مہنگائی سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف نیچے آیا ہے۔ امریکی عوام کے کچن بجٹ پر پڑنے والے اس اضافی بوجھ نے آئندہ مڈ ٹرم الیکشنز کے حوالے سے انتظامیہ پردباؤ بڑھا دیا ہے۔

سی بی ایس پولز کے مطابق بیف اور برگر جیسی مقبول غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کوان کی دوسری صدارتی مدت کی کم ترین سطح، چالیس فیصد پردھکیل دیا ہے۔ 60 فیصد سے زائد ووٹرز ٹرمپ انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں میں ناکامی پر شدید عدم اطمینان اظہارکررہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عام ورکنگ کلاس ووٹرز پٹرول اور روزمرہ اشیائے خورونوش کی مہنگائی کے ساتھ بیف قیمے کی قیمت 6.89 ڈالر فی پاؤنڈ کی ریکارڈ سطح اور برگرز کی بڑھتی قیمتوں سے شدید ناراض ہیں۔

دوسری طرف، قیمتیں گھٹانے کے لیے 90 دن کی ہنگامی بنیادوں پر تین لاکھ میٹرک ٹن سستا غیر ملکی بیف درآمد کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے نے ان کے اپنے سب سے مضبوط اور روایتی ووٹر یعنی امریکی کسانوں، مویشی پالوں اور دیہی برادری کوشدید برہم کر دیا ہے۔

کیٹل فارمرز کا ماننا ہے کہ الیکشن کو مدنظر رکھتے ہوئے 90 دن کی یہ سستے گوشت کی پالیسی ان کی روزی روٹی کا سودا کر کے ان کی معاشی قربانی لے رہی ہے۔ ٹرمپ کے 90 روزہ بیف پلان کے تحت مارکیٹ میں قیمہ 25 فیصد قیمت پر فروخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اقدام پر نیشنل کیٹلمینز بیف ایسوسی ایشن نے اس فیصلے کو مقامی پیداواری کیلئے تباہ کن قرار دیا ہے۔

اس پالیسی کا سب سے بڑا فائدہ برازیل کو ہوگا جو پہلے 26.4 فیصد کسٹم ڈیوٹی ادا کر رہا تھا اور اب ڈیوٹی فری چھوٹ سے بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔ جبکہ آسٹریلیا جیسے بڑے برآمد کنندگان کے لیے اس میں کوئی خاص فائدہ نہیں کیونکہ وہ پہلے ہی کوٹے کے تحت ڈیوٹی فری بیف فراہم کررہا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے پاس اس ڈیوٹی فری گوشت کی عملی نگرانی اور کنٹرول کا کوئی واضح اور شفاف طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ رواں برس امریکہ پہلے ہی 1.2 ملین ٹن سے زائد بیف درآمد کرچکا ہے۔

دوسری جانب امریکی مویشیوں کے سکڑتے ریوڑ کے باعث ریٹیل گوشت کی قیمتیں تاریخی سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اس وقت امریکہ میں خام قیمے کی اوسط قومی قیمت 6.89 ڈالر فی پاؤنڈ (تقریباً ساڑھے چار ہزار روپے فی کلو جبکہ اعلیٰ معیار کے چوائس/سرلوئن بیف کٹ کی اوسط قیمت 14.59 ڈالر فی پاؤنڈ تک جا پہنچی ہے جس کے نتیجے میں کمرشل ریستورانوں میں تیار کبابوں کی فی ڈش قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ میں بیف کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچنے سے برگر 2.50 ڈالر تک مہنگا ہو چکا ہے۔

بائیڈن کے دور میں جو برگر 6 سے 8 ڈالر میں ملتا تھا، اب ٹرمپ انتظامیہ میں اس کی قیمت 8.50 سے 10.50 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ بیف کی قیمتوں میں 21 فیصد سے زائد اس بڑے اضافے نے عام امریکیوں پر بوجھ بڑھا دیا ہے، جس کے بعد حکومت کو مجبوراً بیف پر سے ٹیرف ختم کر کے سستا گوشت درآمد کرنا پڑا۔ اس صورتحال میں ٹرمپ انتظامیہ دہری مشکلات کا شکار ہے۔ مہنگے برگر سے عام ووٹرز کی ناراضگی حکومت کے خلاف ووٹ کا سبب بن سکتی ہے۔ سستا گوشت منگوانے کے اقدام نے ٹرمپ کے اپنے مضبوط ووٹر یعنی کسانوں اور دیہی آبادی کو خلاف کردیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ میں گوشت کے اس بحران کی بنیادی وجہ ملک میں گایوں اور مویشیوں کی تعداد کا 73 سال کی کم ترین سطح (تقریباً 87.2 ملین) پر گرنا ہے، جو مسلسل خشک سالی اور فیڈ کی اونچی لاگت کا نتیجہ ہے۔ حیران کن طورپر، اس شدید گرانی کے باوجود ایک اوسط امریکی سالانہ تقریباً 57 پونڈ (26 کلوگرام) بیف استعمال کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے مارکیٹ میں طلب اور رسد کا توازن مکمل طور پر بگڑ چکا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے زرعی شعبے کو مویشیوں کے ریوڑ دوبارہ مکمل کرنے میں کم از کم 3 سے 5 سال کا عرصہ درکار ہوگا، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ 90 روزہ عارضی ٹیرف چھوٹ جیسے شارٹ کٹ طویل مدتی حل فراہم نہیں کر سکتے اور آنے والے دنوں میں فاسٹ فوڈ انڈسٹری کی لاگت میں مزید 12 فیصد تک اضافے کا امکان برقرار رہے گا۔