والد کو علاج سے محروم رکھنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے: عمران خان کے بیٹوں کی پریس کانفرنس

سپریم کورٹ نے واضح طور پر احکامات دیے ہیں کہ عمران خان کی بچوں سے ٹیلی فون پر بات کروائی جائے، لیکن حکام نے تاحال اجازت نہیں دی۔سلیمان خان

August 25, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

لندن: عمران خان کے صاحبزادے سلیمان خان نے کہا ہے کہ اُنھیں اپنے والد سے ملے کئی برس گزر چکے ہیں جبکہ گذشتہ 6 ماہ سے اُن کی فون پر بھی بات نہیں ہوئی۔

منگل کو آن لائن نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان خان نے الزام عائد کیا کہ ہمارے والد جن حالات سے گزر رہے ہیں، یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

سلیمان خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے واضح طور پر احکامات دیے ہیں کہ عمران خان کی بچوں سے ٹیلی فون پر بات کروائی جائے، لیکن حکام نے تاحال ہمارے اس بنیادی حق کی اجازت نہیں دی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام ہمیں ویزے جاری کرنے سے بھی مسلسل گریز کر رہے ہیں۔

نیوز کانفرنس کے دوران قاسم خان کا کہنا تھا کہ ’میرے والد بہت مضبوط شخص ہیں، لیکن 73 سال کی عمر میں اُن کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے، اس کا اُن پر اثر پڑ رہا ہے۔‘

قاسم خان کا کہنا تھا کہ عمران خان گذشتہ تین برس سے ’قیدِ تنہائی‘ میں ہیں اور اس کے باوجود ان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

عمران خان کے بیٹوں نے ایس وقت میں نیوز کانفرنس کی ہے جب سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو 20 اگست کی شب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے پمز ہسپتال لایا گیا تھا، جہاں اُن کے طبی معائنے کے بعد اُنھیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم کو علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، لیکن حکومت نے اُنھیں پمز لانے کی یہ دلیل پیش کی تھی کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے شفا ہسپتال کے راستے اور باہر پیدا کی گئی سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے اُنھیں شفا ہسپتال نہیں لے جایا جا سکتا تھا۔

حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ پمز میں طبی معائنے کے بعد وہ صحت مند پائے گئے تھے۔ تاہم پاکستان تحریکِ انصاف نے اسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی تھی۔ خیال رہے کہ حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی درخواست کی تھی۔