پمز نرسری آتشزدگی: قصوروار ثابت ہونے والے افراد کو سزا دی جائے گی،ایگزیکٹو ڈائریکٹر
واقعے کے وقت نرسری کے آئی سی یو میں 2 ڈاکٹرز، 4 نرسز اور دیگر طبی عملہ موجود تھا
فوٹو سوشل میڈیا اییکس
اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی اور جو بھی شخص غفلت یا کوتاہی کا ذمہ دار پایا گیا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا عمران نے بتایا کہ واقعے کے وقت نرسری کے آئی سی یو میں 2 ڈاکٹرز، 4 نرسز اور دیگر طبی عملہ موجود تھا۔ ان کے مطابق ایک ڈاکٹر نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک نومولود کی جان بچائی۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کا کہنا تھا کہ اسپتال میں فائر سیفٹی کا نظام موجود ہے اور واقعے کے دوران ریسکیو ٹیم کو کارروائی میں کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ نرسری میں مجموعی طور پر 24 آکسیجن سلنڈر موجود تھے۔
رانا عمران کے مطابق ماضی میں بچوں کے چوری ہونے کے واقعات کے باعث نرسری میں داخلے کے لیے سخت پابندیاں عائد تھیں، جس کی وجہ سے عام افراد کا داخلہ محدود رکھا گیا تھا۔
پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمران سکندر ہسپتال میں خوفناک حادثے کے 6 گھنٹے بعد منظر عام پر آئے ہیں اور ان کی ڈھٹائی دیکھیں کیسے سینہ چوڑا کر کے بے خوف جھوٹ بول رہے ہیں ، سوگواران اور عینی شاہدین کے مطابق آگ لگنے کے وقت ڈاکٹروں سمیت عملہ غائب تھا اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں دو… pic.twitter.com/lEo26ggNvB
— Mahrosh Pervaiz (@MahroshPervaiz1) August 26, 2026
دوسری جانب پمز اسپتال کی نرسری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں خرابی یا پھٹنا بتائی گئی ہے۔
حکام کے مطابق آتشزدگی کا واقعہ صبح تقریباً 7 بجے گائنی وارڈ کے ایم سی ایچ بلاک کی تیسری منزل پر قائم نرسری میں پیش آیا۔ فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا۔
واقعے کے بعد ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی انتظامات اور ممکنہ غفلت کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے، جبکہ ذمہ داروں کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔