بھارت سندھ طاس معاہدے کی تاریخ اور مقصد کو مسخ کر رہا ہے: پاکستانی سفیر
پابندی دونوں ممالک پر لازم ہے۔معاہدے میں کسی ایک فریق کی جانب سے یکطرفہ طور پر اسے معطل کرنے یا ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کی گنجائش موجود نہیں۔
فائل فوٹو
واشنگٹن: امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت معاہدے کی تاریخ، مقصد اور قانونی حیثیت کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے۔
نیوز ویک میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں پاکستانی سفیر نے امریکا میں بھارتی سفیر کی جانب سے یکم اگست 2026 کو شائع کیے گئے مضمون میں پاکستان کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کی تردید کی۔
رضوان سعید شیخ کے مطابق سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کی پابندی دونوں ممالک پر لازم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے میں کسی ایک فریق کی جانب سے یکطرفہ طور پر اسے معطل کرنے یا ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کی گنجائش موجود نہیں۔
پاکستانی سفیر نے مؤقف اختیار کیا کہ کوئی بھی ملک بین الاقوامی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے یکطرفہ طور پر دستبردار نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور دونوں فریق اس کی قانونی ذمہ داریوں کے پابند ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان معاہدے کی روح اور طے شدہ اصولوں کے مطابق اس پر مکمل عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم بھارت کی جانب سے کیے جانے والے یکطرفہ اقدامات خطے میں امن اور سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
رضوان سعید شیخ نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنے یکطرفہ اقدامات واپس لے اور بین الاقوامی قانون کے تحت سندھ طاس معاہدے سے جڑی اپنی ذمہ داریوں پر مکمل طور پر عمل کرے۔