سانحہ پمز:وزیراعظم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹرسمیت8 افرادکو معطل کردیا۔فوجداری کارروائی کی ہدایت
آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسزکو کال کی گئی، ابتدائی تحقیقات
فائل فوٹو
وزیراعظم شہباز شریف نے پمز سانحے پر اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر سمیت 8 افراد کو فوری معطل کر کےکارروائی کرنےکی منظوری دے دی۔
وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیےکے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پمز واقعے پر لاہور میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔
اعلامیےکے مطابق وزیر اعظم کو تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی۔
وزیر اعظم نےکمیٹی کی نشاندہی پر 8 افرادکو فوری معطل کرکےکارروائی کرنےکی منظوری دے دی۔ وزیراعظم کی کمیٹی کی نشاندہی پر ذمہ داران کے خلاف محکمانہ اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
اعلامیےکے مطابق ان 8 افراد میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر شامل ہیں۔ سکیورٹی پر مامور کمپنی اور عہدیداران کے خلاف کارروائی کی بھی منظوری دی گئی ہے،معطل ہونے والوں میں جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی محمد عثمان، سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی عبدالرحمان، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر سعدیہ ریاض اور سینئر رجسٹرار بھی معطل ہونے والوں میں شامل ہیں۔
وزیراعظم آفس کےمطابق متاثرہ وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈکو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کی گئی ہے۔وزیراعظم نے ان افراد کے خلاف بلا امتیاز فوجداری کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
پمز واقعے میں بچےکو بچانے والی نرس کے لیے ستارہ خدمت دینےکی منظوری دی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کرنےکی ہدایت کی ہے۔وزیر اعظم نے ہٹائے گئے افراد کی جگہ نئے افراد کی فوری اور ایک ساتھ تعیناتی کی ہدایت بھی کی ہے۔
رپورٹ کچھ ہی دیر میں وزارت قومی صحت کی ویب سائٹ پر آویزاں کر دی جائےگی۔
آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسزکو کال گئی، ابتدائی تحقیقات
اعلامیے کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ پمز میں ہنگامی صورتحال سے متعلق تفصیلی ایس او پیز یا ٹریننگ موجود نہیں۔ پمز کے 13 ایس اوپیز میں صرف 2 ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا تذکرہ پایا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ پمز واقعے کے وقت سپر وائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہ تھا، دو نرسیں، ایک خاتون گارڈ اور ہاؤس آفیسر وارڈ میں موجود تھے، آگ لگنے اور پورا وارڈ جلنے میں صرف 2 منٹ کا وقت لگا، ایک نرس نے وارڈ میں آگ پھیلنے سے پہلے ایک بچےکی جان بچائی، آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال گئی۔ پمز اسپتال میں پہلا ایمرجنسی ریسپانس کال کے 15 منٹ بعد پہنچا۔
پمز واقعےکے ذمہ داران کو کیفرکردار تک پہنچایا جائےگا، وزیراعظم
اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں، پمز واقعےکے ذمہ داران کو کیفرکردار تک پہنچایا جائےگا، معصوم بچوں کی موت ایسا اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے، بچوں کے والدین کے ساتھ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں، پمز واقعے کے ذمہ داران کو مثالی سزا دلوائی جائےگی۔