لاہور گائنی وارڈ آگ کی کئی گھنٹے اطلاع نہ دینے کا انکشاف،حاملہ خواتین نے بھاگ کر جان بچائی

گائنی وارڈ میں آگ چھت میں نصب بجلی کی وائرنگ میں شارٹ سرکٹ کے باعث بھڑکی، جس کے بعد وارڈ میں دھواں پھیل گیا

September 1, 2026 · قومی
file photo

file photo

لاہور: لاہور جنرل ہسپتال کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے کے واقعے سے متعلق اہم انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں مبینہ طور پر آتشزدگی کی اطلاع ہسپتال انتظامیہ کو کئی گھنٹے تک نہیں دی گئی۔

ذرائع کے مطابق گائنی وارڈ میں آگ چھت میں نصب بجلی کی وائرنگ میں شارٹ سرکٹ کے باعث بھڑکی، جس کے بعد وارڈ میں دھواں پھیل گیا۔ اس وقت وارڈ میں حاملہ خواتین، مریض اور نومولود بچے موجود تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ کی صورتحال پیدا ہونے پر بعض حاملہ خواتین کو اپنی جان بچانے کے لیے خود وارڈ سے باہر نکلنا پڑا، جبکہ واقعے کے بعد تقریباً 70 افراد کو عمارت سے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

آتشزدگی کے واقعے نے ہسپتال کے فائر سیفٹی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مبینہ طور پر فائر بریگیڈ کو بروقت اطلاع نہ دیے جانے کے معاملے پر بھی تحقیقات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔

بعد ازاں فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کی اور آگ پر قابو پالیا۔ واقعے کے دوران ایک سیکیورٹی گارڈ کی طبیعت بھی خراب ہوئی، جسے فوری طور پر ہسپتال کی ایمرجنسی منتقل کیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق گارڈ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

واقعے میں خوش قسمتی سے کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم گائنی وارڈ میں موجود حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کی حفاظت کے حوالے سے ہنگامی انتظامات پر کئی سوالات سامنے آگئے ہیں۔

واقعے کی مکمل وجوہات اور مبینہ غفلت کے ذمہ داران کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔