تاجروں نے طورخم بارڈر کھولنے کا مطالبہ کردیا۔ بندش سے ٹرانسپورٹ،ہوٹلز اور مارکیٹس متاثر

افغانستان کے ساتھ بارڈرز کی بندش سے اربوں ڈالر کے نقصان کا دعویٰ

September 3, 2026 · قومی

فائل فوٹو

پاک افغان بارڈر طورخم کی بندش کو 327 دن گزر گئے، جس کے باعث خیبر پختونخوا کے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں، سمال انڈسٹریز سے وابستہ ہزاروں مزدور فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ بارڈر کی بندش کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی گئی، تاہم تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ تاجروں نے مطالبہ کیا کہ بارڈر پر سیاست نہ کی جائے اور تجارت کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔

ان خیالات کا اظہار خیبر چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی یوسف آفریدی، نائب صدر واجد علی شینواری، حضرت علی بہلول، حاجی عابد اور دیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ بارڈر کی بندش کے حوالے سے اسلام آباد میں وزیر داخلہ کے ساتھ ایک اجلاس ہوا تھا، جس میں بلوچستان چیمبر آف کامرس اور سرحد چیمبر کے عہدیداران بھی موجود تھے۔ وزیر داخلہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اس معاملے پر خیبر پختونخوا میں بیٹھ کر تفصیلی بات چیت کی جائے گی، تاہم تاحال یہ اجلاس منعقد نہیں ہوسکا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تمام بارڈرز بند ہونے کے باعث اب تک تقریباً 2.5 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے، جس میں برآمدات کی مد میں 1.644 ارب ڈالر جبکہ درآمدات کی مد میں 817 ملین ڈالر کا نقصان شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بارڈر کی بندش کے باعث ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے بڑے ٹرانسپورٹ کاروبار، ہوٹلز اور مارکیٹس بند ہوچکی ہیں، جس سے ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے۔ تاجروں کے مطابق بارڈر کی بندش سے صوبے کو سیس ٹیکس کی مد میں 7.27 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، تاہم صوبائی حکومت بارڈر کی بندش کے معاملے پر مکمل خاموش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانزٹ تجارت میں بھی شدید نقصان ہوا ہے۔ خیبر چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی یوسف آفریدی نے خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے گزشتہ پانچ سال کے آڈٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چیمبر کا مرکزی دفتر خیبر میں فعال کیا جائے اور بعض غیر مقامی افراد کی مبینہ مداخلت ختم کی جائے۔