سندھ اسمبلی میں صوبے کی کسی بھی قسم کی تقسیم کے خلاف قرارداد متفقہ منظور

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور پی پی رہنما فریال تالپور کی جذباتی تقایر، ایم کیو ایم پر دوغلے پن کا الزام

September 3, 2026 · قومی
سندھ اسمبلی کا اجلاس، مراد علی شاہ اور فریال تالپور اظہار خیال کر رہے ہیں

سندھ اسمبلی کا اجلاس، مراد علی شاہ اور فریال تالپور اظہار خیال کر رہے ہیں

سندھ اسمبلی نے صوبے کی کسی بھی قسم کی تقسیم کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ تاہم اپوزیشن کا کوئی رکن منظوری کے وقت ایوان میں منظور نہیں تھا۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ سمیت پی پی رہنماؤں نے صوبے کی ممکنہ تقسیم کے خلاف تقاریر کیں۔

سندھ اسمبلی میں تحریک التوا پر چوتھے روز مباحثے کے بعد پیپلز پارٹی کے رکن نثار کھوڑو نے ایوان میں اسپیکر اویس قادر شاہ کی اجازت کے بعد قرارداد پیش کی۔ قرارداد پیش کرنے سے پہلے وزیراعلیٰ نے تقریر کی تو اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے اراکین نے واک آؤٹ کیا جس کے بعد نثار کھوڑو نے اسپیکر سے قرارداد پیش کرنے کی اجازت طلب کی۔ نثار کھوڑو نے قرارداد پیش کی تو ایوان میں پیپلز پارٹی کے 105 اراکین موجود تھے جبکہ اپوزیشن کا ایک بھی رکن ایوان میں نہیں تھا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ تاریخی دھرتی اور ناقابل تقسیم ہے، سندھ نے قیام پاکستان کی قرارداد منظور کی، سندھ کی اسمبلی نے پاکستان میں شمولیت کی قرارداد منظور کی تھی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ میں کسی قسم کی تقسیم کو ایوان رد کرتا ہے، سندھ کی موجودہ حدود میں کوئی بھی تبدیلی نہیں ہوگی، سندھ ایک ہے ہمیشہ ایک رہے گا۔

قرارداد کی منظوری پر پیپلز پارٹی کے اراکین بینچوں پر ہاتھوں میں سندھ دھرتی ماں کے بینرز ہاتھوں میں لے کر کھڑے ہوئے اور نعرے بازی بھی کی۔

اس سے پہلے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کہیں اور بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا، قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہیں تم سندھ تقسیم کی بات بھی نہیں کرسکتے، سندھ میں نئے صوبے نہیں بننے چاہئیں، فیصلہ یہاں ہونا ہے پتا چل جائے گا کون ساتھ ہے اور کون دوغلا پن کر رہا ہے، سندھ کے عوام کے جذبات اور احساسات کو نظرانداز کرنا کسی صورت درست نہیں، ون یونٹ کے قیام کے معاملے پر بھی سندھ کے عوام کے جذبات کو نظرانداز کیا گیا، سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کسی دوسرے مقام پر بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا، لاہور میں ایک پروگرام میں دی سسٹم ہیز کولیپسڈ کہا گیا اور اس پر تالیاں بجائی گئیں، سندھ کے معاملات پر غیر متعلقہ فورمز پر ہونے والی گفتگو تشویش کا باعث ہے، کیا اب پاکستان کو نچوڑنے والے ارب پتی بزنس مین نئے صوبوں کا فیصلہ کریں گے؟

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال کہتے ہیں انتظامی یونٹس چاہتے ہیں، ایم کیو ایم والے یہاں کہتے ہیں سندھ تقسیم نہ ہو، یہ ہوتا ہے دوغلا پن، ایم کیو ایم والے کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں، ان میں سے ایک بھی انتخاب جیتا ہوا نہیں ہے۔ اگر یہ عوام کے ووٹ سے آئے ہوتے تو شاید ایسی صورتحال پیدا نہ ہوتی، ان اراکین میں سے کسی ایک نے بھی عوام کے ووٹ سے کامیابی حاصل نہیں کی، ان اراکین کے انتخاب کے حوالے سے تفصیلات مناسب وقت پر سامنے رکھ سکتا ہوں، بعض اراکین انتخاب کے بجائے مخصوص طریقہ کار کے تحت ایوان میں پہنچے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کی بحث میں صرف آبادی کو دلیل نہیں بنایا جاسکتا، بات گورننس کی ہے تو بہتر بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات پر بات ہونی چاہیے، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے معاملے پر ضرور تفصیلی بحث ہوسکتی ہے، انتظامی امور کو سندھ کی تقسیم کے معاملے کے ساتھ مکس نہیں کیا جانا چاہیے، ضرورت پڑی تو سندھ میں مزید اضلاع اور انتظامی یونٹس بھی بنائے جاسکتے ہیں، مقامی حکومتوں کو مزید مضبوط بنانا بھی ہماری ترجیح ہے، مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کے لیے قانون میں مزید ترامیم لانے پر کام جاری ہے۔

پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور کا کہنا ہے کہ بلوچ خاندان سے ہوں لیکن سندھ کا پانی پیا ہے اسے تقسیم نہیں ہونے دوں گی۔ سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی رہنما فریال تالپور نے کہا کہ یہ ہماری دھرتی ماں ہے اس کی حفاظت کریں گے، ہم سب پاکستانی ہیں، سندھ کے لیے ہم ایک آواز کے ساتھ لڑ رہے ہیں، سندھ تقسیم ہوگیا ہے تو اپنے حلقے میں کیا منہ دکھاؤں گی۔ انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کو مضبوط کرنا ہے تو بات کریں، ہم نے سندھ کے لیے کیا کیا تو ہم کیا جواب دیں گے، اسلام آباد اور پنجاب میں کیوں لوکل گورنمنٹ نہیں ہے، اراکین اسمبلی اپنے آپ سے سوال کریں کہ وہ سندھ کے معاملے پر کیا مؤقف اختیار کریں گے۔

فریال تالپور نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو اور ان کے والد ذوالفقار بھٹو کی قربانیوں کو نہیں بھولنا چاہیے، سندھ سے ہمارا تعلق نسلوں پر محیط ہے اور ہماری جڑیں اسی دھرتی سے جڑی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی دھرتی چھوڑ کر بیرون ملک نہیں جائیں گے، سندھ ہی ہمارا گھر ہے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے علی خورشیدی نے کہا کہ ان کے کسی رکن نے سندھ کی تقسیم کا مطالبہ نہیں کیا، کارکردگی نہ ہونے کے سبب حکومت یہ ایشو کھڑا کر رہی ہے۔