ٹرمپ کی ایران کی جوہری تنصیبات پر ایک بار پھر دھمکی

تہران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امریکا کسی بھی ممکنہ اقدام کے لیے تیار ہے۔

September 5, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف ممکنہ کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا بہت جلد ایران میں ایک اہم پہاڑی علاقے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق مذکورہ علاقہ ایران کی نطنز یورینیم افزودگی تنصیب کے قریب واقع ہے، جہاں انتہائی محفوظ سرنگوں کے کمپلیکس موجود ہیں۔

امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے مزید کہا کہ تہران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امریکا کسی بھی ممکنہ اقدام کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر روس اور یوکرین کا دورہ کریں گے اور جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز پیش کریں گے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ اس آبی گزرگاہ کی اہمیت ماضی جیسی نہیں رہی اور اس کے متبادل راستے تیار کیے جا رہے ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شام سے پائپ لائنز اور سڑکوں کے ذریعے متبادل راستے بننے کی صورت میں آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید کم ہوسکتی ہے۔

ایران کے ساتھ کشیدگی کے بارے میں امریکی صدر نے کہا کہ بعض لوگ اسے جنگ قرار دیتے ہیں، تاہم وہ اسے فوجی تنازع سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول ایران کے ساتھ تنازع اتنا بڑا معاملہ نہیں جتنا بعض حلقوں کی جانب سے اسے پیش کیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کے تازہ بیانات کے بعد ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق خطے میں جاری کشیدگی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔