ایرانی آئل ٹینکروں پر حملے، تہران کا امریکا کو سخت جواب

امریکی کارروائیاں خطے میں کشیدگی بڑھانے کے ساتھ عالمی امن اور تجارتی جہاز رانی کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہی ہیں۔

September 6, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

تہران: ایران نے ملکی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کا اعلان کردیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے ایرانی آئل ٹینکروں پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی کارروائیاں خطے میں کشیدگی بڑھانے کے ساتھ عالمی امن اور تجارتی جہاز رانی کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہی ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی حملوں کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کو ان کارروائیوں کے ممکنہ نتائج کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔

ایرانی مؤقف کے مطابق امریکی بحری دباؤ اور ایرانی تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کا مقابلہ کیا جائے گا، جبکہ ملکی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے تمام ضروری صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں گی۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز اور خلیج کے پانیوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی فورسز نے حالیہ کارروائی میں تین ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران کی جانب سے بھی جوابی اقدامات کے دعوے سامنے آئے ہیں۔

امریکی بحری دباؤ کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی بھی متاثر ہوئی ہے، جبکہ خطے میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی تیل کی ترسیل اور توانائی کی منڈیوں کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کیے ہیں۔