ایران کا جوہری معاملہ سلامتی کونسل بھیجنے کی قرارداد، منظوری پر جوابی کارروائی کی دھمکی

عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز میں یورپی قرارداد جوہری تنصیبات کے معائنے سے متعلق، ایران اجازت دینے کو تیار نہیں

September 8, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز میں یورپی ممالک کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قرارداد منظور ہونے کی صورت میں تہران جوابی کارروائی کرے گا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کی جانب سے پیش کیے گئے قرارداد کے نئے مسودے کے نتیجے میں ایران کا جوہری معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجا جا سکتا ہے۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ اگر یہ قرارداد منظور ہوئی تو ایران اس کے جواب میں مناسب کارروائی کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یورپی ممالک دیگر معاملات میں ناکامی کے بعد ایران کے جوہری معاملے کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ بعض اوقات عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل بھی سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے قرارداد کے مسودے کو ایک نقصان دہ راستے کی تکرار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران، چین اور روس پہلے ہی سنیپ بیک طریقۂ کار کو غیر قانونی اور ناقابلِ عمل قرار دے چکے ہیں۔

اسماعیل بقائی کے مطابق ایران کے جوہری معاملے پر تین یورپی ممالک اب مؤثر کردار سے محروم ہو چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے اور متاثرہ تنصیبات کے معائنے کا معاملہ بھی مشکلات کا شکار ہے۔

دوسری جانب یورپی ممالک اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، بالخصوص ان تنصیبات کا جنہیں حملوں کے دوران نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایران نے تاہم واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں وہ اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں، جبکہ بورڈ آف گورنرز میں یورپی قرارداد پر پیش رفت کے بعد ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔