نوکیا فون چرانے پر 20 برس سے قید دو بچوں کے باپ کی رہائی جلد متوقع

لیروئے کو 2005 میں عوامی تحفظ کے لیے غیر معینہ مدت کی قید کے متنازع نظام کے تحت سزا دی گئی تھی۔ عدالت نے ان کے لیے کم از کم ڈھائی سال کی مدت مقرر کی تھی

September 8, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

برطانیہ میں موبائل فون چوری کے جرم میں دو دہائیاں جیل میں گزارنے والے 45 سالہ لیروئے ڈگلس کی آئندہ ماہ رہائی متوقع ہے، تاہم ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ طویل قید کے دوران ان سے زندگی کے قیمتی سال چھین لیے گئے۔

لیروئے ڈگلس ان پانچ قیدیوں میں شامل ہیں جن کے مقدمات کا اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے نے جائزہ لیا اور قرار دیا کہ مقررہ مدت مکمل ہونے کے باوجود ان کی مسلسل قید بین الاقوامی قانون کے تحت من مانی حراست کے زمرے میں آ سکتی ہے۔

لیروئے کو 2005 میں عوامی تحفظ کے لیے غیر معینہ مدت کی قید کے متنازع نظام کے تحت سزا دی گئی تھی۔ عدالت نے ان کے لیے کم از کم ڈھائی سال کی مدت مقرر کی تھی، تاہم اس مدت کی تکمیل کے بعد بھی انہیں خودکار طور پر رہا نہیں کیا گیا۔

اس نظام کے تحت قیدی کی رہائی کا فیصلہ اس وقت کیا جاتا تھا جب پیرول حکام اسے معاشرے میں واپس جانے کے لیے موزوں قرار دیں۔ یہ نظام بعد ازاں نئے مقدمات کے لیے ختم کردیا گیا، تاہم اس سے پہلے سزا پانے والے متعدد قیدی طویل عرصے تک جیل میں رہ گئے۔

لیروئے کی بہن نٹالی ڈگلس کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی نے ماضی میں معمولی نوعیت کے جرائم کیے، تاہم کسی پرتشدد جرم میں ملوث نہیں رہے۔ ان کے مطابق لیروئے نے جیل میں اپنی بیٹی سمیت خاندان کے کئی اہم لمحات بھی کھو دیے، جبکہ ان کی بیٹی 19 برس کی عمر میں انتقال کرگئی۔

رپورٹ کے مطابق لیروئے کو رہائی کے بعد بھی مختلف شرائط کی پابندی کرنا ہوگی، جن میں کرفیو، نگرانی کے لیے برقی آلہ اور منشیات کی جانچ شامل ہیں۔

لیروئے کے معاملے نے برطانیہ میں ایسے قیدیوں کے مستقبل پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے جو متنازع غیر معینہ مدت کی سزاؤں کے تحت طویل عرصے سے جیلوں میں موجود ہیں۔ ان کے اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ اگر مقررہ کم از کم سزا پوری ہونے کے بعد انہیں بروقت رہا کردیا جاتا تو وہ اپنی زندگی کے کئی اہم سال اپنے خاندان کے ساتھ گزار سکتے تھے۔