پورٹ قاسم کی عالمی درجہ بندی میں بھی 18 درجے بہتری
ایک سال میں کراچی پورٹ کی عالمی درجہ بندی میں 30 درجے جبکہ پورٹ قاسم کی درجہ بندی میں 18 درجے بہتری ریکارڈ کی گئی
پورٹ قاسم کی عالمی درجہ بندی میں بھی 18 درجے بہتری(فوٹو سوشل میڈیا ایکس)
کراچی: وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری امور کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں، جس کے باعث پاکستان کے میری ٹائم شعبے میں نمایاں پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے۔
اصلاحات کے نتیجے میں کراچی پورٹ کی عالمی درجہ بندی ایک سال کے دوران 99ویں سے بہتر ہو کر 69ویں پوزیشن پر پہنچ گئی، جبکہ پورٹ قاسم کی درجہ بندی بھی 74ویں سے 56ویں پوزیشن پر آگئی۔
اعداد و شمار کے مطابق ایک سال میں کراچی پورٹ کی عالمی درجہ بندی میں 30 درجے جبکہ پورٹ قاسم کی درجہ بندی میں 18 درجے بہتری ریکارڈ کی گئی۔ دونوں بندرگاہیں مجموعی طور پر سالانہ 100 ملین ٹن سے زائد کارگو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
میری ٹائم شعبے میں اصلاحات کے نتیجے میں مالیاتی اشاریوں میں بھی بہتری سامنے آئی ہے۔ گڈز ڈیکلریشن سے حاصل ہونے والی آمدن میں 16 فیصد جبکہ انکم ٹیکس وصولیوں میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح الیکٹرانک قانونی محصولات میں بھی 105 فیصد نمایاں اضافہ ہوا۔
وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری امور کی مؤثر اصلاحات کے مثبت ثمرات، میری ٹاہم سیکٹر میں بڑی پیشرفت
وزیراعظم ٹاسک فورس کی اصلاحات کی بدولت کراچی پورٹ کی عالمی رینکنگ ایک سال میں 99 سے 69ویں پوزیشن پر پہنچ گئی
پورٹ قاسم کی عالمی رینکنگ میں بھی نمایاں بہتری سے بندرگاہ 74 سے 56ویں… pic.twitter.com/faIwMRnbrd
— Javed Baloch (@javedbalochpk) September 9, 2026
حکام کے مطابق جدید بندرگاہی سہولیات، بہتر انتظامی نظام اور مؤثر لاجسٹکس پاکستان کو خطے میں ایک اہم ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے جہاز سازی کے خام مال اور جہازوں کی خریداری پر سیلز ٹیکس ختم کرنے کے اقدامات سے مقامی شپ بلڈنگ صنعت کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئے بندرگاہی منصوبوں، کسٹمز کے تیز تر نظام، یکساں پورٹ ٹیرف اور بہتر لاجسٹکس کے ذریعے پاکستان کے بحری شعبے اور مقامی جہاز سازی کی صنعت کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔