ایران امریکا کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 101 ڈالر سے مہنگا
امریکی خام تیل کی قیمت 96 ڈالر 24 سینٹ فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
فائل فوٹو
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کا سلسلہ برقرار ہے۔
رپورٹس کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت معمولی کمی کے باوجود 101 ڈالر 10 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 96 ڈالر 24 سینٹ فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب اماراتی مربن خام تیل کی قیمت میں 5.48 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 116 ڈالر 30 سینٹ فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق اگست کے اوائل میں ریکارڈ کی گئی کم ترین سطح کے مقابلے میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کسی مستقل معاہدے کی عدم موجودگی اور اگست کے اواخر میں دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے بدھ کو آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ اس سے قبل امریکا کی جانب سے ایران کے پانچ آئل ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی مزید حملوں کی صورت میں جوابی کارروائی بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے خلیج فارس کے ذریعے تیل کی ترسیل مستقبل قریب میں متاثر رہنے کا خدشہ ہے۔
آبنائے ہرمز جنگ سے قبل عالمی تیل اور گیس کی فراہمی کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کا اہم راستہ تھا، تاہم موجودہ کشیدگی کے بعد اس گزرگاہ سے توانائی کی ترسیل معمول کی سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوگئی ہے۔