امریکی پابندیوں کا توڑ،ایران نے چین کے ساتھ بارٹر تجارت شروع کردی
ایران اپنا تیل چین کو فراہم کرتا ہے اور اس کے بدلے ادویات، گاڑیاں، مواصلاتی آلات اور دیگر ضروری سامان حاصل کرتا ہے
فائل فوٹو
ایران نے امریکی پابندیوں اور عالمی مالیاتی نظام کی پابندیوں سے بچنے کے لیے چین کے ساتھ ایک متبادل تجارتی طریقہ اختیار کرلیا ہے، جس کے تحت ایرانی تیل کے بدلے چین سے مختلف اشیا اور خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق تجارت سے واقف افراد اور ایرانی حکام کے مطابق اس نظام کے ذریعے ایران اپنا تیل چین کو فراہم کرتا ہے اور اس کے بدلے ادویات، گاڑیاں، مواصلاتی آلات اور دیگر ضروری سامان حاصل کرتا ہے، جبکہ روایتی بینکاری نظام کو استعمال کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس طریقہ کار کے تحت ایرانی تیل کی قیمت کے عوض چین سے درآمد کی جانے والی اشیا کے لیے کریڈٹ کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ان اشیا کی تیاری کرنے والی چینی کمپنیاں براہ راست ایران کے ساتھ مالی لین دین کرنے کے بجائے متبادل طریقہ کار کے ذریعے تجارت میں شامل ہوتی ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایران نے اسی نوعیت کے تجارتی انتظامات سے بعض دفاعی معاہدوں میں بھی فائدہ اٹھایا، تاہم ان معاملات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق تہران صرف بارٹر نما تجارت تک محدود نہیں بلکہ ایسے دیگر طریقے بھی استعمال کررہا ہے جن کے ذریعے بین الاقوامی بینکاری نظام سے گزرے بغیر چینی کمپنیوں سے سامان اور خدمات حاصل کی جاسکیں۔
تاہم خبر ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ ان مبینہ تجارتی معاملات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
بارٹر تجارت سے متعلق سوال پر چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ بیان کردہ مخصوص صورتحال سے آگاہ نہیں، تاہم چین یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے۔
دوسری جانب ایران کے اقوام متحدہ میں نیویارک اور جنیوا مشنز نے خبر ایجنسی کی جانب سے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔