سندھ ہائیکورٹ،انمول پنکی کیس کے 2 ملزمان کی درخواست ضمانت خارج
ملزمان مبینہ طور پر انمول عرف پنکی کی جانب سے منشیات کے عوض رقم وصول کیے جانے کی تصدیق کرتے تھے، جس کے بعد رائیڈرز کے ذریعے منشیات کی ترسیل کی جاتی تھی۔
فائل فوٹو
سندھ ہائیکورٹ نے انمول عرف پنکی کے مبینہ سہولتکاروں ذیشان اور سہیل کی درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی۔
سندھ ہائیکورٹ میں دونوں ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، جہاں وکیل صفائی نے درخواست واپس لینے کی استدعا کے ساتھ ماتحت عدالت کو مقدمے کا ٹرائل جلد مکمل کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی۔
عدالت نے درخواست ضمانت واپس لیے جانے پر اسے خارج کردیا اور ٹرائل کورٹ کو مقدمے کی کارروائی تین ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ اگر مقررہ مدت میں مقدمے کا ٹرائل مکمل نہ ہوسکا تو ملزمان دوبارہ ضمانت کی درخواست دائر کرسکتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسی صورت میں درخواست ضمانت کا فیصلہ میرٹ پر کیا جائے گا۔
سرکاری وکیل کے مطابق ذیشان اور سہیل پر انمول عرف پنکی کو مبینہ طور پر مالی معاملات میں سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ دونوں ملزمان مائیکرو فنانسنگ کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان مبینہ طور پر انمول عرف پنکی کی جانب سے منشیات کے عوض رقم وصول کیے جانے کی تصدیق کرتے تھے، جس کے بعد رائیڈرز کے ذریعے منشیات کی ترسیل کی جاتی تھی۔