جامعہ کراچی پروفیسر دھمکی کیس،عدالت نے ملزم کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا
کونین علی شاہ اور دیگر افراد کے خلاف اس سے قبل پروفیسر عارف خان ساقی اور ان کے بھتیجے پر مبینہ تشدد کا مقدمہ بھی درج ہے
فوٹو سوشل میڈیا ایکس
کراچی میں جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کو مبینہ طور پر ٹیلیفون پر دھمکیاں دینے کے مقدمے میں گرفتار ملزم کونین علی شاہ کو عدالت نے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کی عدالت میں سچل پولیس نے ملزم کو پیش کیا، جہاں تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے مزید تفتیش کرنی ہے، اس لیے جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
ملزم کے وکیل نے عدالت میں مقدمے کی دفعات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل کے خلاف مقدمہ بے بنیاد ہے۔ وکیل نے الزام عائد کیا کہ ملزم کو گھر سے حراست میں لیا گیا اور اس حوالے سے ویڈیو بھی موجود ہے۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ مدعی کی جانب سے دھمکی آمیز پیغام یا دیگر شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
دوسری جانب مدعی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے عبوری ضمانت کے بعد مبینہ طور پر مدعی کو دوبارہ دھمکیاں دیں۔ ان کے مطابق مقدمے میں مزید افراد کی گرفتاری، موبائل فون کی برآمدگی اور دیگر تفتیشی امور باقی ہیں۔
تفتیشی افسر نے بھی ملزم سے مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی، جس پر عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کونین علی شاہ کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کو پروفیسر عارف خان ساقی کو جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی مبینہ دھمکیاں دینے کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ مقدمہ سچل تھانے میں دفعہ 506 اور 25 ڈی ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔
مقدمے کے مطابق پروفیسر عارف خان ساقی نے مؤقف اختیار کیا کہ 10 ستمبر کو انہیں واٹس ایپ کال موصول ہوئی، جس میں مبینہ طور پر کونین علی شاہ نے پہلے سے درج مقدمہ واپس لینے کا مطالبہ کیا اور انکار کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی۔
پولیس کے مطابق ملزم کو مقدمہ درج ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ کونین علی شاہ اور دیگر افراد کے خلاف اس سے قبل پروفیسر عارف خان ساقی اور ان کے بھتیجے پر مبینہ تشدد کا مقدمہ بھی درج ہے، جس میں ملزمان نے عدالت سے قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کر رکھی تھی۔