یمن کی صورتحال سے ایران کا کوئی تعلق نہیں،بقائی
ایران کسی ایک فریق کے مؤقف کی حمایت تک محدود نہیں رہ سکتا اور یمن پر طویل عرصے سے جاری محاصرے اور پابندیوں کو نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں
فائل فوٹو
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یمن میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا ایران سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے مذاکرات اور امن کے عمل میں تعاون کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم یہ کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں۔
ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ یمن میں سامنے آنے والی صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کئی برس سے جاری حالات پر یمنی عوام کا صبر ختم ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کسی ایک فریق کے مؤقف کی حمایت تک محدود نہیں رہ سکتا اور یمن پر طویل عرصے سے جاری محاصرے اور پابندیوں کو نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں۔
ایرانی ترجمان نے الزام عائد کیا کہ امریکا یمن کی صورتحال کا ذمہ دار ایران کو قرار دے کر حالات مزید خراب کرنے اور اسلامی ممالک کے درمیان انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے ایران کے خلاف عائد پابندیوں اور معاشی دباؤ کو بھی جنگ کی ایک شکل قرار دیا۔ ان کے مطابق اقتصادی اور بحری محاصرہ بھی جارحیت کے زمرے میں آسکتا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو دفاع کے دائرے میں دیکھا جا سکتا ہے۔