سونے سے سجی دلہن اور دلہا گرفتار

دلہن کے بے شمار سونے کے زیورات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں اور بعد ازاں دلہا کو منی لانڈرنگ کے شبے میں گرفتار کرلیا گیا۔

September 12, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

ترکیہ کے مشرقی شہر وان میں ایک انتہائی پرتعیش شادی اس وقت مالیاتی تحقیقات کا مرکز بن گئی جب دلہن کے بے شمار سونے کے زیورات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں اور بعد ازاں دلہا کو منی لانڈرنگ کے شبے میں گرفتار کرلیا گیا۔

شادی کی تقریب میں ترک سوشل میڈیا شخصیت چاغلا اوز نے بھاری مقدار میں سونے کے زیورات پہن رکھے تھے۔ ان زیورات میں تاج، بھاری ہار، متعدد کنگن اور سونے کا بیلٹ شامل تھا۔ وائرل مناظر میں زیورات کی غیر معمولی مقدار کے باعث دلہن کو چلنے پھرنے میں دشواری کا سامنا کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

دلہن کی منگنی کی تقریب کی ویڈیوز بھی اس سے قبل سوشل میڈیا پر گردش کرچکی تھیں، جن میں وہ بڑی تعداد میں قیمتی زیورات پہنے نظر آئی تھیں۔ شادی اور منگنی کی تصاویر بڑے پیمانے پر پھیلنے کے بعد صارفین کی جانب سے تقریب کے اخراجات اور دلہا کی مالی حیثیت سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔

سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث کے بعد معاملہ ترک حکام کی توجہ میں بھی آگیا۔ وان کے سرکاری استغاثہ نے وائرل ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی معلومات کا جائزہ لیتے ہوئے تحقیقات شروع کردیں، جن کا دائرہ بعد میں دلہا کے اثاثوں، جائیداد اور آمدنی کے ذرائع تک بڑھا دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق پولیس نے 8 ستمبر کی صبح مرادیہ میں کارروائی کرتے ہوئے دلہا محمد فاتح تانجالان کو ان کے گھر سے گرفتار کیا۔ وہ گاڑیوں کی خرید و فروخت سے وابستہ کاروبار کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ایک مخصوص نام سے بھی سرگرم ہیں۔

عدالتی کارروائی کے بعد ان کے خلاف منی لانڈرنگ کے شبے میں گرفتاری کا حکم جاری کیا گیا۔ ترک مالیاتی جرائم سے متعلق ادارے سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ تانجالان کے اثاثوں، جائیداد، مالی معاملات اور شادی کے دوران دکھائے گئے سونے کی مکمل جانچ کرے۔

دوسری جانب محمد فاتح تانجالان نے اپنے خلاف الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی دولت کا کسی غیر قانونی سرگرمی سے تعلق نہیں۔ ان کے مطابق شادی میں دلہن کے پہنے گئے زیادہ تر زیورات ان کی ذاتی ملکیت نہیں تھے۔

تانجالان کا کہنا ہے کہ ایک زیورات کے تاجر نے تشہیری مقصد کے لیے تقریب میں سونا فراہم کیا تھا، جسے بعد میں واپس کیا جانا تھا۔ ان کے مطابق شادی کے بعض اخراجات بھی مختلف تشہیری معاونین نے برداشت کیے، جبکہ کچھ زیورات رشتہ داروں کی جانب سے بطور تحفہ دیے گئے تھے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کی اہلیہ بھی سوشل میڈیا سرگرمیوں اور تشہیری کام سے خاطر خواہ آمدنی حاصل کرتی ہیں۔

یوں سونے اور شاہانہ انداز کی وجہ سے سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والی یہ شادی اب مالی معاملات اور مبینہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے باعث ایک بڑے تنازع میں تبدیل ہوگئی ہے۔ ترک حکام دلہا کے کاروبار، اثاثوں، آمدنی کے ذرائع اور شادی میں دکھائے گئے قیمتی زیورات سے متعلق تمام دعووں کی جانچ کررہے ہیں۔