نئے صوبوں کا حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، مشترکہ اجلاس سے منظوری پر ریفرنڈم ہوگا: رانا ثنا اللہ

وفاقی حکومت کا نئے صوبوں کے معاملے پر پارلیمنٹ سے رجوع کا عندیہ، جماعت اسلامی سے مذاکرات جاری۔

September 12, 2026 · قومی

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ پارلیمنٹ میں ہی طے کیا جانا چاہیے۔ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اکنامک فورمز یا سیمینارز میں صوبوں کی بحث نتیجہ خیز نہیں رہ سکتی، صوبوں سے متعلق بحث کا اصل اور درست فورم پارلیمنٹ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر عوام نئے صوبے چاہتے ہیں تو کوئی انہیں نہیں روک سکتا، اور اگر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے اس کی منظوری دی تو اس معاملے پر ریفرنڈم کروایا جائے گا۔ حکومت خود سے ریفرنڈم کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔

رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ نئے صوبے بنانے کا معاملہ تاحال کابینہ میں نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی اس پر باضابطہ بحث کی گئی ہے۔ ن لیگ اس معاملے پر اپنی پارٹی کی ڈسٹرکٹ اور یونین کونسل کے کارکنوں کی سوچ پر غور کرے گی اور مناسب فورم پر بحث کے بعد وزیراعظم کی مشاورت سے اپنا پالیسی بیان دے گی۔ دوسری جانب، ملک کے طول و عرض میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں وزیر داخلہ کے بیانات کے برعکس سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں سندھ کی تقسیم کی مخالفت میں واضح قراردادیں منظور کر چکی ہیں۔

دریں اثنا، وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور مہنگائی کے خلاف مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہو گیا ہے۔ حکومت نے جماعت اسلامی کی چھ نکاتی تجاویز پر غور کے لیے مزید تین دن کا وقت مانگ لیا ہے اور ساتھ ہی جماعت اسلامی سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال مؤخر کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔ رہنما جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم نہ کیا تو دھرنے اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔