نئی آٹو پالیسی کا حتمی اجرا آئی ایم ایف سے مشاورت سے مشروط، اضافی کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان

مسودہ تیار، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مذاکرات متوقع، برآمدات اور الیکٹرک وہیکلز کو فروغ دینے کا فیصلہ

September 15, 2026 · قومی
نئی آٹو پالیسی کا حتمی اجرا آئی ایم ایف سے مشاورت سے مشروط، اضافی کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان

نئی آٹو پالیسی کا حتمی اجرا آئی ایم ایف سے مشاورت سے مشروط، اضافی کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان

ملک میں آئندہ 5 سال کے لیے تیار کی گئی نئی آٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی کا اجرا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت سے مشروط کر دیا گیا ہے، جس کے باعث اس کی منظوری میں مزید تاخیر کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار کے ذرائع کے مطابق نئی آٹو پالیسی کا مسودہ مکمل کر لیا گیا ہے، تاہم حتمی منظوری سے قبل اس کا جائزہ آئی ایم ایف کی ٹیم کے ساتھ شیئر کیا جائے گا جو رواں ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ کرے گی۔

دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نئی آٹو پالیسی اب آخری مرحلے میں ہے اور اس پر قانونی امور کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دستیاب دستاویزات اور حکومتی بیانات کے مطابق، نئی پالیسی کا بنیادی مقصد صارفین کو کم نرخوں پر گاڑیاں فراہم کرنا اور ماضی کی غلطیوں سے گریز کرتے ہوئے صنعت میں توازن پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نئی پالیسی کے تحت تمام اضافی کسٹمز اور ریگولٹری ڈیوٹیز ختم کر دی جائیں گی تاکہ مقامی گاڑیاں بین الاقوامی مارکیٹ کا مقابلہ کر سکیں۔

معاون خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ پالیسیوں کے نتیجے میں ملک میں کار ساز کمپنیوں کی تعداد 3 سے بڑھ کر 13 ہو چکی ہے، اور اب نئی پالیسی میں الیکٹرک وہیکلز (ای وی) کو خصوصی سہولیات فراہم کرنے پر بھی بھرپور توجہ دی گئی ہے تاکہ آٹو سیکٹر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔