اقوام متحدہ کا غزہ کے تمام علاقوں تک عالمی معائنہ کاروں کو رسائی دینے کا مطالبہ
غزہ کے کئی علاقوں میں ملبہ ہٹانے اور عمارتیں منہدم کرنے کا عمل جاری ہے، اس لیے ضروری ہے کہ انسانی باقیات اور ممکنہ شواہد ضائع ہونے سے محفوظ کیے جائیں۔
فائل فوٹو
جنیوا: اقوام متحدہ نے غزہ کے تمام علاقوں تک عالمی معائنہ کاروں کو رسائی دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملبے سے ملنے والی انسانی باقیات کی شناخت اور ممکنہ شواہد کو محفوظ کیا جاسکے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے بڑی تعداد میں انسانی باقیات ملنے سے بین الاقوامی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ملنے والی باقیات میں خواتین اور بچوں سمیت پورے خاندانوں کے افراد بھی شامل ہیں۔
وولکر ترک نے کہا کہ غزہ کے کئی علاقوں میں ملبہ ہٹانے اور عمارتیں منہدم کرنے کا عمل جاری ہے، اس لیے ضروری ہے کہ انسانی باقیات اور ممکنہ شواہد ضائع ہونے سے محفوظ کیے جائیں۔
انہوں نے متاثرین کی شناخت، فرانزک شواہد اور حیاتیاتی نمونوں کو محفوظ رکھنے، تدفین کے مقامات کا ریکارڈ مرتب کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو آگاہ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات پر زور دیا۔
اقوام متحدہ کے مطابق فلسطینی سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ نومبر 2025 سے ستمبر 2026 کے دوران غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے 630 سے زائد لاشیں اور انسانی باقیات نکالی جاچکی ہیں، جبکہ ہزاروں افراد اب بھی ملبے تلے لاپتا ہیں۔
وولکر ترک نے کہا کہ انسانی باقیات کی بازیابی اور تدفین کے ساتھ ساتھ ان حالات کی تحقیقات بھی ضروری ہیں جن میں یہ افراد ہلاک ہوئے۔ ان کے مطابق شہری آبادی والے علاقوں میں ہونے والے حملوں اور ان کے نتیجے میں بڑی تعداد میں خواتین، بچوں اور دیگر افراد کی ہلاکت کے حوالے سے مؤثر تحقیقات کی ضرورت ہے۔