امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ٹرمپ کے ایران جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور کرلی

سیاسی دھچکا، 7 ریپبلکن ارکان کی حمایت، 38 ارب ڈالر کے اخراجات کا انکشاف

September 16, 2026 · |
امریکی ایوان نمائندگان کا اجلاس جہاں ایران جنگی اختیارات کی قرارداد منظور کی گئی

امریکی ایوان نمائندگان کا اجلاس جہاں ایران جنگی اختیارات کی قرارداد منظور کی گئی

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اور بڑا سیاسی دھچکا دیتے ہوئے ایران کے خلاف جنگی اختیارات محدود کرنے کی ایک قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی ہے۔ قرارداد میں صدر سے ایران کے خلاف جاری کارروائی ختم کرنے اور امریکی فوجیوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قرارداد کے حق میں 222 جبکہ مخالفت میں 204 ووٹ ڈالے گئے۔ اس اہم ووٹنگ کے دوران ڈیموکریٹک ارکان کے ساتھ 7 ریپبلکن ارکان نے بھی صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد کی حمایت کی۔ ایوان کی جانب سے ایران جنگ کے حوالے سے یہ تیسری مرتبہ ہے کہ صدر کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے جسے ڈیموکریٹ ارکان نے اپنی اب تک کی اہم ترین کوشش قرار دیا ہے۔ یہ ووٹنگ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل عمل میں آئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق قرارداد کی منظوری کے باوجود اس کے عملی طور پر نافذ ہونے کے لیے سینیٹ کے مرحلے سمیت مزید آئینی اور قانونی مراحل درکار ہوں گے۔ کانگریشنل بجٹ آفس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 تک جنگ پر امریکا کے تقریباً 38 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں اور آئندہ دنوں میں اخراجات میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔