کوئٹہ میں کمسن بچے کے قتل کا معمہ حل، چچی گرفتار

کمسن علی شاہ 20 اگست کو مدرسے سے گھر واپس آنے کے بعد لاپتا ہوگیا تھا۔ 23 اگست کی صبح گھر کے قریب ایک بوری سے اس کی لاش برآمد ہوئی

September 17, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کوئٹہ میں ایک ماہ قبل بوری سے برآمد ہونے والی کمسن بچے کی لاش کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آگئی، پولیس نے مقتول بچے کی سگی چچی کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو حراست میں لیا، جس سے تفتیش کے دوران مبینہ طور پر بچے کے قتل کا اعتراف سامنے آیا۔ پولیس نے کارروائی کے دوران مبینہ آلۂ قتل بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کے مطابق کمسن علی شاہ 20 اگست کو مدرسے سے گھر واپس آنے کے بعد لاپتا ہوگیا تھا۔ اہل خانہ نے بچے کی تلاش شروع کی تو 23 اگست کی صبح گھر کے قریب ایک بوری سے اس کی لاش برآمد ہوئی۔

واقعے کی تفتیش سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے ہومیسائیڈ انویسٹی گیشن یونٹ کے حوالے کی گئی۔ ایس ایس پی ایس سی آئی ڈبلیو کیپٹن (ر) دوست محمد بگٹی کی نگرانی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس میں ہومیسائیڈ انویسٹی گیشن یونٹ، اینالیسس یونٹ اور دیگر افسران شامل تھے۔

پولیس کے مطابق ایس ایس پی دوست محمد بگٹی اور ایس پی عبدالستار اچکزئی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور تفتیشی ٹیم سے کیس میں ہونے والی پیش رفت پر بریفنگ لی۔

تفتیشی ٹیم نے دستیاب شواہد، تکنیکی معلومات، رابطوں اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا، جس کے بعد تفتیش کا رخ مقتول بچے کی سگی چچی کی جانب ہوگیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ خاتون کو حراست میں لے کر تفتیش کی گئی، جس دوران مبینہ طور پر اس نے بچے کے قتل کا اعتراف کیا۔ تفتیش کے مطابق بچے کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کئی روز تک گھر میں موجود پانی کی ٹینکی میں چھپائی گئی۔

پولیس کے مطابق لاش سے بدبو آنے کے بعد اسے ٹینکی سے نکالا گیا، بوری میں بند کیا گیا اور گھر کے قریب پھینک دیا گیا۔

پولیس نے گرفتار خاتون سے مبینہ آلۂ قتل بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق قتل کے محرکات اور واقعے سے جڑے دیگر پہلوؤں کی مزید تفتیش جاری ہے۔