میر رضا کیس، بزنس پارٹنر احمد بھردے پھر طلب

احمد بھردے نے اپنے پہلے بیان میں بتایا تھا کہ میر رضا اپنے والد کے قرضوں کے باعث مالی دباؤ کا شکار تھے

September 17, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں جوڈیشل کمیشن نے ان کے بزنس پارٹنر احمد بھردے کو ایک بار پھر طلب کرلیا۔

کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے احمد بھردے کو دوبارہ طلبی کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے وکیل کے ہمراہ آج کمیشن کے سامنے پیش ہوں۔ کمیشن کے مطابق اگر احمد بھردے کیس کے حوالے سے مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے گا۔

اس سے قبل بھی احمد بھردے کمیشن کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کراچکے ہیں، تاہم کمیشن نے ان کے بعض جوابات پر اطمینان کا اظہار نہیں کیا تھا اور مزید وضاحت کے لیے انہیں دوبارہ طلب کیا گیا ہے۔

تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے کمیشن نے کیس کے پہلے تفتیشی افسر شبیر لغاری کو بھی طلب کرلیا ہے۔ اس کے علاوہ نجی ادارے وافلیکس کے اکاؤنٹنٹ عمیر کو بھی آج کمیشن کے روبرو پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

احمد بھردے نے اپنے پہلے بیان میں بتایا تھا کہ میر رضا اپنے والد کے قرضوں کے باعث مالی دباؤ کا شکار تھے۔ ان کے مطابق گزشتہ برس خاندان کو مالی مشکلات کا سامنا ہوا، والد کی جانب سے منگوایا گیا ایک کنٹینر بھی غائب ہوگیا تھا، جبکہ میر رضا کی والدہ نے مالی مسائل کے باعث اپنے زیورات فروخت کیے تھے۔

احمد بھردے کے مطابق میر رضا نے یہ بھی بتایا تھا کہ والد کے قرضوں کی وصولی کے لیے بعض افراد گھر آکر رقم کا مطالبہ کرتے تھے۔ ان کے بیان کے مطابق حسن تنولی سمیت دو افراد نے ان سے بھی رابطہ کیا تھا۔

احمد بھردے نے بتایا تھا کہ اسد علی کے میر رضا پر 25 لاکھ روپے جبکہ حسن تنولی کے 50 لاکھ روپے واجب الادا تھے۔ ان کے مطابق میر رضا کی گمشدگی کے روز دوپہر کے وقت حسن تنولی نے فون کیا، جبکہ اسد علی بٹ اور مجتبیٰ نے بھی ان سے رابطہ کیا تھا۔

جوڈیشل کمیشن کی جانب سے مزید بیانات اور شواہد کی روشنی میں میر رضا قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔