ژوب جیل سے جعلی احکامات پر 2 قیدی رہا
رہائی پانے والے قیدیوں میں نصیرآباد کے رہائشی عبدالسلام اور کچلاک، کوئٹہ کے رہائشی امان اللہ شامل ہیں۔ دونوں 25، 25 سال قید کی سزا بھگت رہے تھے۔
فائل فوٹو
ژوب: بلوچستان کے ضلع ژوب کی سینٹرل جیل سے منشیات کے مقدمات میں طویل قید کی سزا پانے والے دو قیدیوں کو مبینہ جعلی عدالتی احکامات کی بنیاد پر رہا کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق رہائی پانے والے قیدیوں میں نصیرآباد کے رہائشی عبدالسلام اور کچلاک، کوئٹہ کے رہائشی امان اللہ شامل ہیں۔ دونوں قیدی منشیات کے مقدمات میں 25، 25 سال قید کی سزا بھگت رہے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو 30 مئی 2025 کو عدالتی احکامات کے نام پر جاری کیے گئے مبینہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر ژوب سینٹرل جیل سے رہا کیا گیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق مغرب کے وقت ایک نامعلوم شخص مبینہ طور پر جعلی عدالتی احکامات لے کر جیل کے مرکزی دروازے پر موجود اہلکار کے پاس پہنچا۔ دستاویزات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے دونوں قیدیوں کو جیل سے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی۔
واقعے کا بعد میں علم ہونے پر ژوب جیل کے موجودہ سپرنٹنڈنٹ کی مدعیت میں 30 اگست 2026 کو سٹی پولیس اسٹیشن ژوب میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مقدمے میں رہا کیے گئے دونوں قیدیوں کے علاوہ نامعلوم سہولت کاروں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق واقعے میں ممکنہ انتظامی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے سابق سپرنٹنڈنٹ جیل حبیب اللہ، ڈیٹا انٹری آپریٹر سدا گل اور کلرک عبدالجلیل کو معطل کردیا گیا ہے۔
پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد جعلی عدالتی احکامات تیار کرنے، انہیں جیل تک پہنچانے اور قیدیوں کی رہائی میں مبینہ سہولت کاری کرنے والے عناصر کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
واقعے نے جیلوں میں عدالتی احکامات کی تصدیق کے نظام، انتظامی نگرانی اور سیکیورٹی انتظامات سے متعلق بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تاہم تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی ذمہ داری اور دیگر حقائق واضح ہوسکیں گے۔