کسٹمز کی بڑی کارروائی، 3 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کا اسلحہ برآمد
اہم پیش رفت، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا واقعہ، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں
کسٹمز کی جانب سے برآمد کیا گیا اسلحہ اور سیاسی شخصیات سے متعلق خبروں کا احوال
پشاور کے قریب جوائنٹ چیک پوسٹ یارک پر پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ کے عملے نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران کروڑوں روپے مالیت کا اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کر لیا ہے۔ کسٹمز حکام کے مطابق خفیہ اطلاع پر عمل کرتے ہوئے سدرا شریف کے مقام پر ایک مشکوک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا، تاہم ڈرائیور موقع پر گاڑی چھوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
کسٹمز حکام کے جاری کردہ بیان کے مطابق قبضے میں لیے گئے اسلحے کی مالیت 3 کروڑ 20 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ برآمد شدہ ہتھیاروں میں امریکی ساختہ چار ایم 4 رائفلیں، دو جی تھری رائفلیں، مختلف اقسام کے درجنوں میگزین، ترکی ساختہ اٹھارہ ٹِسا زیگانا پستول، تیس بیریٹا پستول، چین ساختہ 30 بور کے ایک سو بیس پستول اور اے کے-47 سمیت مختلف بورز کے ہزاروں راؤنڈز اور کارتوس شامل ہیں۔ کسٹمز حکام نے اسلحہ اور گاڑی کو سرکاری تحویل میں لے کر ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔
دوسری جانب لاہور کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کو پنجاب پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر حراست میں لینے اور لکشمی چوک پر بغیر سیکیورٹی چھوڑنے کا سنجیدہ واقعہ پیش آیا ہے۔ اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں نے اسے “اغوا کی کوشش” قرار دیا ہے جبکہ سیاسی حلقوں میں اس پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے اپنے کارکنوں کو پُرامن رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر کراچی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سندھ کے سابق صوبائی وزیر علی حسن چاہنیو کو نامعلوم مسلح افراد نے ان کے گھر سے مبینہ طور پر اغوا کر لیا ہے جس پر پولیس نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ ایک اور معاملے میں، جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر نے جامعہ کراچی کے پروفیسر عارف ساقی کو دھمکیاں دینے کے کیس میں ملزم کونین شاہ کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے 20 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔