رضوان سے انگلینڈ میں موبائل فون رات ڈیڑھ بجے لیا گیا

رات گئے موبائل لینے سے واپسی تک، رضوان نے کئی سوالات کے جوابات مانگ لیے

September 18, 2026 · اسپورٹس, قومی

فائل فوٹو

اسلام آباد:قومی کرکٹر محمد رضوان سے انگلینڈ میں رات تقریباً ڈیڑھ بجے ’’پاکستان کی خاطر‘‘ موبائل فون لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق رضوان کو ہوٹل کے کمرے سے اٹھا کر لابی میں بلایا گیا، جہاں پی سی بی کا ایک آفیشل اور ایک نامعلوم شخص موجود تھا۔ رضوان سے آن لائن بیٹنگ کمپنیوں اور سٹے بازی سے متعلق سوالات کیے گئے اور موبائل فون طلب کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ رضوان نے کئی بار موبائل دینے سے انکار کرتے ہوئے پوچھا کہ فون کیوں لیا جا رہا ہے اور الزامات کیا ہیں؟ بار بار اصرار کرنے پر رضوان سے کہا گیا کہ ’’پاکستان کی خاطر آپ اپنا موبائل دے دیں‘‘، جس پر رضوان نے رضامندی ظاہر کردی۔

ذرائع کے مطابق رضوان کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ موبائل چند گھنٹوں میں واپس کردیا جائے گا۔ اگلے روز وطن واپسی کی فلائٹ ہونے کے باعث رضوان نے موبائل کے بغیر واپسی پر اعتراض کیا اور ٹیم منیجر سے بار بار فون کے بارے میں پوچھا، تاہم انہیں کوئی اطمینان بخش جواب نہ مل سکا۔

بعد ازاں معلوم ہوا کہ موبائل این سی سی آئی اے لاہور پہنچ چکا ہے اور تاحال رضوان کو واپس نہیں کیا گیا۔

رضوان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد رضوان کو تحقیقات سے نہیں بلکہ تحقیقات کے طریقہ کار پر تحفظات ہیں۔ ذرائع کے مطابق سینٹرل کنٹریکٹ کے تحت سکیورٹی یا ٹیم منیجر کھلاڑی کا موبائل لے سکتا ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ موبائل لینے کے بعد معائنے کی تحریری رپورٹ، وجوہات اور فون قبضے میں لینے کی رسید کہاں ہے؟

ذرائع نے سوال اٹھایا کہ اگر آئی سی سی اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت کارروائی کی گئی تو تحریری مطالبہ کہاں ہے، اور اگر آئی سی سی کوڈ استعمال نہیں ہوا تو موبائل کس اختیار کے تحت لیا گیا؟

ذرائع کے مطابق چند گھنٹوں میں فون واپس کرنے کی یقین دہانی کے باوجود اسے ملک سے باہر منتقل کرکے ہفتوں تک تحویل میں کیوں رکھا گیا؟ لندن میں موبائل لیتے وقت کیا میٹروپولیٹن پولیس یا برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کو مطلع کیا گیا؟

ذرائع نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا کسی برطانوی ادارے یا عدالت کی جانب سے وارنٹ، عدالتی درخواست یا قانونی منظوری موجود تھی؟ اگر معاملہ کسی انٹرنیشنل میچ میں کرپشن سے متعلق تھا تو آئی سی سی کو کب مطلع کیا گیا؟

ذرائع کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے معاملے پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں ہوا، جبکہ مسجد جانے سے متعلق سوال پر بھی رضوان جاننا چاہتے ہیں کہ انہوں نے کس مخصوص دن، وقت، پریکٹس یا میٹنگ کو چھوڑ کر ڈسپلن یا سکیورٹی کی خلاف ورزی کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بیٹنگ پلیٹ فارمز سے متعلق سنگین تحقیقات کی جا رہی ہیں تو دو سابق کھلاڑیوں کے لیے اصول یکساں کیوں نہیں؟ رضوان ان تمام سوالات کے تحریری جوابات کے منتظر ہیں، جو تاحال پی سی بی، انگلینڈ کرکٹ بورڈ، آئی سی سی یا برطانوی پولیس کی جانب سے موصول نہیں ہوئے۔