آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن پر کارٹل کا الزام ثابت،6 کروڑ روپے جرمانہ

سی سی پی نے ایسوسی ایشن کو ٹرانسپورٹ کرایوں کے اجتماعی تعین اور پرچی و باری کے نظام کو فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

September 19, 2026 · قومی
آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن پر کارٹل کا الزام ثابت،6 کروڑ روپے جرمانہ

آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن پر کارٹل کا الزام ثابت،6 کروڑ روپے جرمانہ

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے آل پاکستان ایڈیبل آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کارٹل بنانے اور ٹرانسپورٹ کرایوں کے اجتماعی تعین کا الزام ثابت ہونے پر مجموعی طور پر 6 کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا۔

کمیشن کے مطابق خوردنی تیل اور گھی کی ترسیل کے کرایے باہمی طور پر طے کیے گئے جبکہ ٹینکرز کے درمیان کاروبار کی تقسیم کے لیے پرچی اور باری کا نظام استعمال کیا جاتا رہا۔ ان دونوں معاملات پر ایسوسی ایشن کو 3،3 کروڑ روپے کے الگ الگ جرمانے کیے گئے ہیں۔

سی سی پی نے ایسوسی ایشن کو ٹرانسپورٹ کرایوں کے اجتماعی تعین اور پرچی و باری کے نظام کو فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

کمیشن کی مارکیٹ انٹیلی جنس کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے اضافے کی صورت میں ٹرانسپورٹ کرایہ 0.75 فیصد بڑھانے جبکہ قیمت میں ایک روپے کمی پر کرایہ صرف 0.5 فیصد کم کرنے کا فارمولا موجود تھا۔ سی سی پی کے مطابق اس فارمولے کے تحت ایندھن کی قیمت میں یکساں تبدیلی کے باوجود کرایہ بڑھانے کی شرح، کمی کی شرح سے زیادہ تھی۔

سی سی پی کے مطابق گزشتہ چھ برس کے دوران ٹرانسپورٹ کرایوں میں 89 مرتبہ اجتماعی تبدیلی کی گئی، جن میں 52 مرتبہ کرایوں میں اضافہ جبکہ 37 مرتبہ کمی شامل تھی۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ رعایتی کرایوں پر خدمات فراہم کرنے والے ٹینکر مالکان کو بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی دی جاتی تھی، جبکہ کم کرایہ طلب کرنے والی ملوں کو خوردنی تیل کی ترسیل روکنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ پرچی اور باری کے نظام کے تحت ٹینکرز کو کاروبار دیا جاتا تھا اور مقررہ شرائط کی خلاف ورزی پر ٹینکر اور مالک دونوں کے لیے الگ الگ 5 لاکھ روپے جرمانہ مقرر تھا۔

سی سی پی کے مطابق ایسوسی ایشن کو شوکاز نوٹس جاری ہونے کے باوجود اگست 2026 میں نیا کرایہ سرکلر جاری کیا گیا، جس میں کراچی سے باہر 81 مقامات تک گھی کی ترسیل کے نرخ مقرر کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ کراچی سے باہر 53 مقامات کے لیے چربی جبکہ کراچی کے اندر گھی اور چربی کی ترسیل کے لیے 18 مقامات کے کرایے بھی طے کیے گئے۔

کمیشن کے مطابق ایسوسی ایشن کے ساتھ تقریباً 2 ہزار 362 ٹینکرز اور ایک ہزار 700 مالکان رجسٹرڈ تھے۔ روزانہ 250 سے 300 ٹینکرز بندرگاہوں پر آتے تھے جبکہ این ایل سی کے ٹینکرز کی تعداد تقریباً 50 سے 60 تھی۔ دو بڑے مارکیٹ کھلاڑیوں کے تقابل میں ایسوسی ایشن کا حصہ تقریباً 83 فیصد بنتا تھا۔

سی سی پی کا کہنا ہے کہ آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن اور پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے درمیان ٹرانسپورٹ کرایوں کے تعین سے متعلق معاہدہ موجود تھا۔ کمیشن کے مطابق ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی کرایوں کے باہمی معاہدے کے تحت طے ہونے کی تصدیق کی۔

دستاویزات کے مطابق یہ معاہدہ 2011 میں کیا گیا تھا جسے 2022 میں اپ ڈیٹ کیا گیا۔ کمیشن کی تلاشی کے دوران گزشتہ چھ برس کے ریٹ سرکلرز، معاہدے اور کمپیوٹر میں محفوظ متعلقہ ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا۔

سی سی پی کے مطابق اس سے قبل بھی پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشنز کے درمیان ٹرانسپورٹ کرایوں کے تعین سے متعلق معاہدے سامنے آچکے ہیں۔ سابقہ فیصلے میں پی وی ایم اے کو کمپٹیشن ایکٹ کی دفعہ 4 کی خلاف ورزی پر 5 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا تھا۔

کمپٹیشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ لاگت میں اضافے کا براہ راست اثر گھی اور خوردنی تیل جیسی ضروری اشیا کی قیمتوں پر پڑسکتا ہے، اس لیے آزادانہ مسابقت کو یقینی بنانے کے لیے اجتماعی کرایہ طے کرنے اور پرچی و باری کے نظام کے خاتمے کی ہدایت کی گئی ہے۔