اسرائیلی تاریخ دان نے نیتن یاہو کو آئینہ دکھادیا
ی حکومت فلسطینیوں کے خلاف سنگین جرائم کی ذمہ دار ہے اور ان کے بقول غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی گئی۔
اسرائیلی تاریخ دان نے نیتن یاہو کو آئینہ دکھادیا
اسرائیلی نژاد برطانوی تاریخ دان ایوی شلائم نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایوی شلائم نے الزام عائد کیا کہ نیتن یاہو کی حکومت فلسطینیوں کے خلاف سنگین جرائم کی ذمہ دار ہے اور ان کے بقول غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی گئی۔
برطانوی تاریخ دان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت نے فلسطینیوں کے خلاف انتہائی سنگین نوعیت کے اقدامات کیے ہیں، جنہیں وہ نسل کشی کے زمرے میں شمار کرتے ہیں۔
ایوی شلائم نے دوسری عالمی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں یہودی نازی جرمنی کے ظلم و ستم کے سامنے بے بس تھے، جبکہ آج ان کے مطابق فلسطینی اسرائیلی ریاست کی کارروائیوں کے سامنے اسی طرح بے بسی کی صورتحال سے دوچار ہیں۔
تاریخ دان کے ان بیانات میں اسرائیلی حکومت کی غزہ سے متعلق پالیسیوں پر شدید تنقید کی گئی ہے، تاہم فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے قانونی تعین اور اس کی ذمہ داری سے متعلق عالمی سطح پر مختلف مؤقف اور قانونی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔