اسرائیلی وزیر کا ہجوم کے ساتھ مسجد اقصیٰ پر دھاوا۔صحن میں مذہبی رسومات کی ادائیگی

سعودیہ اور قطر کی مذمت۔اقدام سراسر شرانگیزی قرار

September 21, 2026 · بام دنیا

بیت المقدس میں حرم الشریف کا منظر جس میں گنبد صخرہ (ڈوم آف دی راک) اور مسجد الاقصیٰ کا گنبد (بائیں) دونوں ہی دکھائی دے رہے ہیں۔

 

سعودی عرب اور قطر نےایک اسرائیلی وزیر اور آباد کاروں کے گروپ کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دھاوا بولنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

بیت القدس گورنریٹ کے مطابق مقبوضہ مشرقی بیت ا لمقدس میں قومی سلامتی کے وزیر، انتہا پسند ایتمار بن غفیر نے تقریباً 100 اسرائیلی قابضین کے ساتھ مسجد اقصیٰ کے احاطے پر دھاوا بولا۔

گورنریٹ کے میڈیا آفس نے بتایا کہ قابضین نے اسرائیلی پولیس کی حفاظت میں احاطے کے صحنوں پر دھاوا بولا اور مذہبی رسومات ادا کیں۔یہ واقعہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو، کئی وزرا اور ہزاروں اسرائیلی قابضین کے سخت سکیورٹی میں مشرقی بیت المقدس کی مغربی دیوار پلازہ میں داخل ہونے کے ایک دن بعد پیش آیا ہے۔

وزارت اوقاف و مذہبی امور نے قابض فورسز کی سخت حفاظت میں اور متعدد آباد کاروں کے ہمراہ، انتہا پسند وزیر ایتمار بن غفیر کی جانب سے مسجد اقصی پر دھاوا بولنے کی سخت مذمت کی ہے۔

وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بار بار کی دراندازیاں اور اشتعال انگیز کارروائیاں مقدس ترین اسلامی مقام کے تقدس کی کھلی خلاف ورزی اور مسجد اقصی میں ایک نئی حقیقت مسلط کرنے اور اس کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی مذموم کوشش ہیں۔

سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدام ایک کھلی خلاف ورزی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سراسر اشتعال انگیزی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب مقبوضہ فلسطین میں فلسطینیوں اور مقدس مقامات کے خلاف اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیز کارروائیوں، اکسانے عمل اور غیر قانونی و انتہا پسندانہ پرتشدد کارروائیوں کو ایک بار پھر قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔

سعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ان تمام حملوں کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
قطر کی وزات خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ ’انتہا پسند اسرائیلی وزیر اور آباد کاروں کی جانب سے مسجد اقصی پر دھاوا قابل مذمت اور عالمی قانون کی خلاف کھلی خلاف ورزی اور دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کے جذبات کے لیے ناقابل قبول اشتعال انگیزی قرار ہے۔‘

قطری وزارت خارجہ نے کہا کہ مسجد اقصی خالصتاً مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ بیت المقدس اور اس کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے کیے جانے والے کوئی بھی یک طرفہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’اس طرح کی مسلسل خلاف ورزیاں اور اشتعال انگیزیاں خطے میں مزید تشدد اور کشیدگی کو بھڑکانے کا خطرہ پیدا کرتی ہیں اور امن و استحکام کے امکانات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔عالمی برادری اسرائیل کو فلسطینی عوام اور ان کے مقدس مقامات کے خلاف اس کی جاری خلاف ورزیوں کو روکنے اور متعلقہ بین الاقوامی قانونی قراردادوں کی پاسداری کرنے پر مجبور کرنے کے لیے فوری کارروائی کرے۔