مارب میں یمنی فوج کا آپریشن کامیاب۔ حوثیوں کی پسپائی۔لاشیں چھوڑکر فرار
متعدد گاڑیاں تباہ۔ بھاری جانی نقصانات
یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز میں شدید جھڑپیں، 68 ہلاکتیں
تعزکے بعد یمنی فوج نے مارب سے بھی حوثیوں کو پسپاکردیا ہے حکومتی فورسز نےصوبہ تعز کے مغربی حصے میں اسٹریٹجک اہمیت کے حامل جبلِ نعمان (Mount Numan) پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔
، فوجی ذرائع نے بتایا کہ تعز،لحج سرحد پر 24 گھنٹے کی لڑائی میں کم از کم 48 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 17 حکومتی اہلکار اور 31 حوثی جنگجو شامل ہیں۔
یمنی مسلح افواج نے صوبہ مارب کے مغربی اور جنوبی محاذوں پر حوثی ملیشیا کی جانب سے دراندازی کی 2 کوششیں ناکام بنا دی ہیں۔ حوثی ملیشیا نے جنوبی محاذ کے الفالحہ سیکٹر سے سرکاری پوزیشنوں میں دراندازی کی کوشش کی، تاہم توپ خانے اور ڈرون حملوں نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا، جس کے نتیجے میں عسکریت پسندوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
حوثی ملیشیا نے وادی ضنہ کے سیکٹر میں بھی پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تاکہ وادی میں 3 دن سے لاوارث پڑی اپنے جنگجوؤں کی لاشیں نکالی جا سکیں، مگر یمنی افواج نے اس کوشش کو پسپا کر دیا اور ان کی گاڑیاں تباہ کر دیں۔
مغربی محاذ پر بھی العزور اور المشجح میں پیش قدمی کی ایسی ہی کوششیں یمنی فوج کی توپ خانے کی فائرنگ سے ناکام ہو گئیں۔ سرکاری فوج نے چند گھنٹوں کے دوران مارب میں حوثی ملیشیا کی 15 فوجی گاڑیاں تباہ کر دیں اور ملیشیا کو درجنوں جانی نقصان پہنچایا۔
یمن میں تیسرے ملٹری ریجن کے کمانڈر میجر جنرل منصور بن عبداللہ ثوابہ نے کہا ہے کہ سرکاری افواج مأرب گورنری میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ اب صرف اپنے علاقوں کے دفاع تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا مقصد حوثیوں کے کنٹرول میں موجود علاقوں اور ریاستی اداروں کی واپسی بھی ہے۔
ثوابہ نے یہ بھی واضح کیا کہ مسلح افواج اپنی جنگ اس وقت تک جاری رکھیں گی جب تک حوثیوں کے زیرِ تسلط علاقوں کو آزاد نہیں کروا لیا جاتا اور ریاستی اداروں کو بحال نہیں کر دیا جاتا۔
تیسرے ملٹری ریجن کے کمانڈر نے جنوبی مأرب میں سرکاری افواج کے علاقوں پر حوثیوں کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے ان کا مقابلہ کیا اور حملہ آوروں کی صفوں میں نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ درجنوں افراد جاں بحق، زخمی اور قید ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ حوثی ملیشیا کے کارکنوں کی متعدد لاشیں اب بھی دروں، وادیوں اور جھڑپوں کے علاقوں میں پڑی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے بعد یہ گروہ اپنے متعدد جنگجوؤں کو نکالے یا طبی امداد دیے بغیر چھوڑ گیا۔
سرکاری افواج کی صلاحیتوں کے حوالے سے ثوابہ نے کہا کہ مأرب کے محاذوں اور جنگ کے مختلف علاقوں میں مسلح افواج ایک مشترکہ آپریشن روم کے ذریعے اور ایک متحدہ قیادت کے تحت کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے فوجی کارروائیوں کے دوران زمینی اور فضائی افواج کے درمیان ہم آہنگی موجود ہونے کا بھی بتایا۔ انہوں نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں قبائل کے افراد سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو اس گروہ کی صفوں میں لڑنے کے لیے نہ بھیجیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انہیں جھڑپوں میں دھکیلنا ان کی موت کا سبب بنتا ہے، یہ بچے بے روح لاشیں بن کر واپس آئیں گے۔
سرکاری فورسز نے اعلان کیا ہے کہ پہلی بریگیڈ کے اہلکاروں نے باب المندب کے متوازی کھبوب محاذ کی فضاؤں میں پرواز کرتے ہوئے حوثیوں کے ایک ڈرون طیارے کو مار گرایا۔
فورسز نے ایک ویڈیو کلپ بھی شائع کیا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ طیارے کو گرائے جانے کو ثابت کرتا ہے تاہم اس کی قسم یا اس مشن کی نشاندہی نہیں کی گئی جو وہ انجام دے رہا تھا۔
باب المندب پر واقع کھبوب محاذ پر سرکاری افواج اور حوثیوں کے درمیان بار بار جھڑپیں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔اسی تناظر میں یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ فضائیہ نے البيضاء گورنری میں حوثی ملیشیا کے عناصر اور ان کے سامان کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فضائی حملوں نے میزائل لانچنگ پیڈز، ایک جدید کمیونیکیشن سسٹم اور اسلحے اور فوجی سامان کے گوداموں کو تباہ کر دیا۔
حوثیوں نے ہفتے کے روز اپنے 73 جنگجوؤں کے جاں بحق ہونے اعلان کیا تھاجن میں 25 ملٹری رینک ہولڈرز بھی شامل ہیں۔ جولائی کے اواخر سے لے کر اب تک جن ہلاک شدگان کے جنازوں کا اعلان کیا گیا ان کی تعداد 413 ہو گئی ہے۔