امریکا نے ایران سے مبینہ مالی روابط پر 8 کینیڈین کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں
مذکورہ کمپنیاں ایرانی ریال اور دیگر کرنسیوں کو ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کرنے کی سہولت فراہم کرتی تھیں
امریکا نے ایران سے مبینہ مالی روابط پر 8 کینیڈین کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں
امریکا نے ایران کو مالی معاونت فراہم کرنے اور پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے کے الزام میں کینیڈا میں قائم 8 مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق مذکورہ کمپنیاں ایرانی ریال اور دیگر کرنسیوں کو ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کرنے کی سہولت فراہم کرتی تھیں، جس کے ذریعے ایرانی حکومت، اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) اور پابندیوں کی زد میں آنے والے دیگر افراد اور اداروں کو رقوم کی منتقلی میں مدد ملتی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے متعدد کمپنیوں کے ایرانی کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کے ساتھ بھی کاروباری روابط تھے، جنہیں امریکا پہلے ہی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر چکا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد ایران کی جانب سے بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے ڈیجیٹل اثاثوں کے استعمال کو روکنا ہے۔ واشنگٹن نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود ایسے افراد یا اداروں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے جو ایران کو پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کریں گے۔
اعلامیے کے مطابق بعض کمپنیوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے نام اور پتے بھی تبدیل کیے، تاہم خدشات سامنے آنے کے باوجود ان کی سرگرمیاں جاری رہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے مزید کہا کہ ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے تحت ایران کے ان مالیاتی ذرائع کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا جن کے ذریعے مبینہ طور پر دہشت گردی، ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور مشرق وسطیٰ میں اتحادی گروہوں کی معاونت کی جاتی ہے۔
اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والی بعض کمپنیوں کے روابط منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقوم کی منتقلی سے بھی سامنے آئے ہیں۔ امریکا نے کینیڈا اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے ایسے مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔