حیفہ میں ’میثاق مدینہ‘ پر قادیانیوں کا جلسہ- اسرائیلی صدر نے تعریفوں کے پل بہا دیئے

بھارتی سفیر نے بھی خصوصی شرکت کی۔ فلسطینی نسل کشی کے دوران اسرائیل کی حمایت پر سخت تنقید کا سامنا

September 22, 2026 · امت خاص
حیفہ میں قادیانی جلسے کا منظر- اسرائیلی صدر اسٹیج پر موجود ہیں۔

حیفہ میں قادیانی جلسے کا منظر- اسرائیلی صدر اسٹیج پر موجود ہیں۔

اسرائیل کے شہر حیفہ کے علاقے کبابیر میں قادیانیوں نے جلسہ منعقد کیا جس میں اسرائیلی صدر نے قادیانیوں کی تعریفوں میں پل بہا دیئے۔ غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کے بعد ہونے والے اس جلسے میں ’میثاق مدینہ‘ کو موضوع بنایا گیا اور اس میں بھارتی سفیر نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا اور جلسے میں لگ بھگ 1000 افراد نے شرکت کی۔ تقریب میں حیفہ کے میئر یونا یاہو اور بھارتی سفیر جے پی سنگھ سمیت کئی اہم شخصیات شریک ہوئیں اور صدر ہرزوگ نے اپنے خطاب میں قادیانیوں کو ’رواداری اور مشترکہ زندگی کا مجسمہ‘ قرار دیا۔

اسرائیل کے شہر حیفہ میں منعقد ہونے والے قادیانیوں کے سالانہ جلسے اور اس میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی شرکت کو مقامی، عبرانی، بین الاقوامی اور بھارتی اردو زبان کے ذرائع ابلاغ نے مختلف انداز میں رپورٹ کیا۔

حیفہ کے پہاڑی علاقے کبابیر میں واقع قادیانی مرکز میں منعقدہ 29 ویں جلسہ سالانہ میں شرکت کے لیے اسرائیل میں قادیانیوں کے سربراہ شریف عودہ نے اسرائیلی صدر کو خصوصی دعوت دی تھی۔

صدر ہرزوگ نے اپنے خطاب میں قادیانیوں کو مشترکہ زندگی، رواداری اور احترام کا مجسمہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع اسرائیل اور خطے کے موجودہ چیلنجز کے درمیان مکالمے اور بقائے باہمی کا ایک حقیقی پل ہے اور انہوں نے شریف عودہ کا امن کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اس سال جلسے کا بنیادی محور تاریخی میثاق مدینہ تھا۔ مقررین نے اس تاریخی دستاویز کی روشنی میں مشترکہ شہریت، باہمی ذمہ داری اور تنازعات کے حل کے لیے مذہب کو ایندھن کے بجائے ایک حل کے طور پر استعمال کرنے پر بحث کی۔

بھارت کے سفیر جے پی سنگھ نے بھی جلسے میں شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں عدم تشدد، پرامن بقائے باہمی اور بھارتی وزیر اعظم کے وژن ’سب کا ساتھ، سب کا وشواس‘ کا ذکر کیا اور یاد دلایا کہ قادیانیوں کے لیے بھارت کا ایک خاص مقام ہے۔

جلسے کی تصاویر اور ویڈیو سامنے آنے کے بعد قادیانی قیادت اور اسرائیلی صدر کے درمیان مصافحے اور گلے ملنے کی تصاویر پر سخت تنقید سامنے آئی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال اور غزہ کی صورتحال کے تناظر میں یہ قادیانیوں کی طرف سے اسرائیلی ریاست کے لیے واضح سیاسی حمایت ہے۔

سخت ردعمل کے بعد قادیانیوں نے موقف اختیار کیا کہ ان کی برادری فلسطینیوں کے ساتھ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جڑی ہوئی ہے لیکن مقامی سطح پر امن اور بقائے باہمی کے لیے ریاست کے سربراہ کے ساتھ مکالمہ برقرار رکھنا ان کی پرانی پالیسی کا حصہ ہے۔

اسرائیل میں قادیانی طویل عرصے سے سرگرم ہیں۔ حیفہ میں اگرچہ ان کی تعداد چند ہزار ہے تاہم مزید لوگ وہاں آباد ہو رہے ہیں۔