چاروں صوبوں کے فضائی اثاثوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے فضائی بیڑے میں نمایاں فرق
چاروں صوبوں کے سرکاری فضائی اثاثوں میں طیارے اور ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔
پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے نجی دورے پر لندن جانے کے لیے صوبائی حکومت کے حال ہی میں خریدے گئے گلف اسٹریم جیٹ کے استعمال کا دفاع کیے جانے کے بعد چاروں صوبوں کے فضائی اثاثوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
17 ستمبر کو ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا تھا کہ لندن میں اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے طیارہ استعمال کرنے پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ طیارہ مریم نواز کا نہیں بلکہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا طیارہ ہے اور چاروں وزرائے اعلیٰ کو جہاز کی سہولت حاصل ہے۔
پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی دو روز بعد جیو پاکستان کو انٹرویو میں اسی مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام وزرائے اعلیٰ کو سرکاری طیارہ استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔
تاہم چاروں صوبوں کے حکام کی جانب سے بیان کیے گئے فضائی اثاثے ایک جیسے نہیں ہیں۔ پنجاب کے پاس گلف اسٹریم G500 ہے، جو اطلاعات کے مطابق 2025 میں پاکستان پہنچا۔ بلوچستان کے پاس Learjet 45XR طیارہ اور دو ہیلی کاپٹر ہیں، سندھ کے پاس 2006 میں تیار کیا گیا Learjet 45 اور دو ہیلی کاپٹر ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کے پاس 2010 میں خریدا گیا ایک ہیلی کاپٹر ہے اور کوئی فکسڈ وِنگ طیارہ نہیں۔
خیبر پختونخوا
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کے پریس سیکریٹری صاحبزادہ حسن علی نے بتایا کہ صوبائی حکومت کے پاس ایک سنگل انجن یوروکاپٹر ایکیوریل ہیلی کاپٹر ہے، جو 2010 میں خریدا گیا تھا اور زیادہ سے زیادہ تین مسافروں کی گنجائش رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے کے زیرِ استعمال ایک اور ہیلی کاپٹر اس سے قبل سیلاب سے بچاؤ کی کارروائیوں کے دوران حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔
صاحبزادہ حسن علی کے مطابق موجود ہیلی کاپٹر تقریباً 700 گھنٹے پرواز کرچکا ہے۔ اس ماڈل کو اب ایئربس H-125 کے نام سے جانا جاتا ہے، صوبائی حکومت کے پاس موجود ہیلی کاپٹر AS-350 B3 ویریئنٹ ہے۔
خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ نے بھی تصدیق کی کہ وزیرِ اعلیٰ کے پاس اپنا کوئی طیارہ نہیں، تاہم انہیں صوبائی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی سہولت حاصل ہے۔
خیبر پختونخوا کے پاس کوئی فکسڈ وِنگ طیارہ نہیں۔
بلوچستان
بلوچستان حکومت ایک طیارہ اور دو ہیلی کاپٹر چلا رہی ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق صوبے کے پاس Learjet 45XR طیارہ ہے، جو 2012 سے زیرِ استعمال ہے اور اس میں سات مسافروں کی گنجائش ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے بلوچستان ایوی ایشن کے نام سے ایک کمپنی قائم کی ہے، جو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہے اور صوبے کے فضائی اثاثے اس کمپنی کو منتقل کردیئے گئے ہیں۔
صوبے کے پاس دو ہیلی کاپٹر بھی ہیں۔ Mi-171 کو 2016 میں خریدا گیا تھا، جو اس وقت گراؤنڈ ہے اور اس میں زیادہ سے زیادہ 14 مسافروں کی گنجائش ہے۔ دوسرا Cessna Caravan ہے، جو 2007 میں تیار کیا گیا تھا اور اس میں آٹھ مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔
سندھ
سندھ حکومت کے مطابق صوبے کے پاس ایک فکسڈ وِنگ طیارہ اور دو ہیلی کاپٹر ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کے ترجمان رشید چنا نے بتایا کہ صوبائی حکومت کے پاس 2006 میں تیار کیا گیا Learjet 45 طیارہ اور دو ہیلی کاپٹر ہیں۔
رشید چنا کے مطابق دونوں ہیلی کاپٹر 1992 میں صوبائی بیڑے میں شامل کیے گئے تھے۔ ان میں سے ایک میں تقریباً تین سے چار جبکہ دوسرے میں تقریباً چھ سے سات مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔
پنجاب
مریم نواز شریف کے لندن دورے کے حوالے سے تنازع کا مرکز بننے والا طیارہ Gulfstream G500 ہے، جو اس سے قبل امریکا میں N144S کے رجسٹریشن نمبر کے ساتھ رجسٹرڈ تھا۔ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ نے حال ہی میں تسلیم کیا کہ اس طیارے کی قیمت تقریباً 9 ارب روپے تھی۔
ایک موقع پر وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ یہ طیارہ مجوزہ کمرشل ایئرلائن ایئر پنجاب کے منصوبوں سے منسلک تھا، تاہم بعد میں حکومتی وزرا نے اعتراف کیا کہ یہ طیارہ وزیرِ اعلیٰ کے سرکاری سفری مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
پنجاب حکومت کے پاس پہلے ہی ایک اور طیارہ Hawker 400XP موجود تھا۔ ایک حکومتی عہدیدار نے معاملے کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سابقہ طیارہ اب بھی زیرِ استعمال ہے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق صوبے کے طیارے کو بین الاقوامی پروازوں کی اجازت ہے، تاہم یہ اجازت صرف دیکھ بھال کے لیے ہے۔ سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے بھی تصدیق کی کہ سندھ کے طیارے کو فی الحال صرف دبئی تک بین الاقوامی پرواز کی اجازت ہے، کیونکہ اس میں اس سے زیادہ فاصلے تک پرواز کرنے کی گنجائش نہیں۔