فکسڈ ٹیکس اسکیم، صرف 2 نئے تاجر ٹیکس نیٹ میں شامل
اسکیم میں مجموعی طور پر 317 دکاندار شامل ہوئے، تاہم ان میں سے 315 پہلے ہی ٹیکس نظام میں رجسٹرڈ تھے
فکسڈ ٹیکس اسکیم، صرف 2 نئے تاجر ٹیکس نیٹ میں شامل
اسلام آباد: چھوٹے تاجروں کے لیے حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی ایک فیصد فکسڈ ٹیکس اسکیم مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اب تک صرف دو ایسے دکاندار اس اسکیم میں شامل ہوئے ہیں جو پہلے ٹیکس نظام کا حصہ نہیں تھے۔
حکام کے مطابق اسکیم میں مجموعی طور پر 317 دکاندار شامل ہوئے، تاہم ان میں سے 315 پہلے ہی ٹیکس نظام میں رجسٹرڈ تھے۔ حکومت نے رواں مالی سال اس اسکیم کے ذریعے تاجروں سے 50 ارب روپے سالانہ ٹیکس جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا، جبکہ اب تک تقریباً 26 ملین روپے وصول ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تاجروں کو ریٹرن جمع کرانے کی قانونی مدت ختم ہونے میں ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے، جس کے باعث حکومت نے اسکیم کے تحت تاجروں کو دی جانے والی سہولتوں اور اپنی پالیسی کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بھی فکسڈ ٹیکس اسکیم کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق اب تک صرف دو نئے دکانداروں نے اسکیم کے تحت اپنے ریٹرن جمع کرائے ہیں، جن میں ایک کا تعلق کوئٹہ اور دوسرے کا راولپنڈی سے ہے۔ مزید 44 نئے تاجروں نے ریٹرن تیار کرلیے ہیں، تاہم انہیں ابھی جمع نہیں کرایا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 6 ہزار 631 تاجروں نے اسکیم کے تحت ریٹرن کا مسودہ تیار کیا، لیکن ان میں سے تقریباً 6 ہزار 587 پہلے ہی ٹیکس فائلر تھے۔ اس صورتحال کے باعث اسکیم اب تک بڑی تعداد میں غیر رجسٹرڈ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا ہدف حاصل نہیں کرسکی۔
شہروں کے لحاظ سے راولپنڈی سے 87 دکاندار اسکیم میں شامل ہوئے، جن میں صرف ایک نیا فائلر تھا۔ لاہور سے 61، ساہیوال سے 33، سیالکوٹ سے 25، کراچی سے 24 جبکہ اسلام آباد سے 23 تاجروں نے اسکیم اختیار کی۔
حکومت نے چھوٹے ریٹیلرز کو سہولت دینے کے لیے سالانہ فروخت پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس مقرر کیا ہے۔ اسکیم میں شامل اہل دکانداروں کو ٹیکس آڈٹ، فروخت کے مقام پر مخصوص نظام نصب کرنے اور ودہولڈنگ ٹیکس وصول کرنے کی ذمہ داری سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ اسکیم کے تحت رجسٹرڈ دکانداروں کے کاروباری مقامات میں ایف بی آر عملے کے داخلے پر بھی پابندی ہوگی اور معمول کے حالات میں ان کا آڈٹ نہیں کیا جائے گا۔
اس اسکیم سے وہ دکاندار فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کا صرف ایک کاروباری مرکز ہو اور گزشتہ مسلسل تین برس کے دوران ان کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے سے کم رہی ہو۔
وزارت خزانہ کے مطابق اجلاس میں اسکیم کے بارے میں تاجروں میں آگاہی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر مملکت نے ٹیکس کمشنرز کو مقامی ٹیکس بارز کے ساتھ رابطہ کرنے اور دکانداروں کو اپنی پسند کے وکلا کے ذریعے ریٹرن جمع کرانے میں سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
تاجروں کے لیے اس اسکیم کے تحت ریٹرن جمع کرانے کی آخری قانونی تاریخ 30 ستمبر مقرر ہے۔