ایران امریکا جنگ بندی کی امید، عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہوگیا
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا تھا۔ برینٹ کی قیمت 3.4 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 2.7 فیصد بڑھی تھی۔
ایران امریکا جنگ بندی کی امید، عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہوگیا
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے امکانات اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات کو قرار دیا جا رہا ہے، تاہم سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو ممکنہ حملوں کا خطرہ مارکیٹ میں بے یقینی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
جمعہ کو برینٹ خام تیل کی قیمت 87 سینٹ یعنی 0.82 فیصد کم ہوکر 105.73 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں 1.56 ڈالر یعنی 1.65 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد ڈبلیو ٹی آئی 93.05 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
اس سے ایک روز قبل عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا تھا۔ برینٹ کی قیمت 3.4 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 2.7 فیصد بڑھی تھی۔
رپورٹس کے مطابق نیویارک میں امریکی اور ایرانی حکام جنگ کے خاتمے کے لیے مرحلہ وار اقدامات پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ممکنہ معاہدے میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکا کی طرف سے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی جیسے اقدامات شامل ہوسکتے ہیں۔
جنگ کے آغاز کے بعد عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ متاثر ہوا ہے، جس کے باعث توانائی کی عالمی منڈی میں قیمتوں اور سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا۔
دوسری جانب سعودی عرب نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق میزائلوں کے ذریعے جنوبی علاقے طائف اور بحیرہ احمر کے قریب واقع ینبع کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
ماہرین کے مطابق سعودی عرب میں توانائی کے اہم مراکز کو لاحق خطرات عالمی تیل مارکیٹ میں غیر یقینی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔
ادھر سعودی عرب نے خام تیل کی پمپنگ میں اضافہ شروع کردیا ہے، تاہم بحیرہ احمر میں واقع ینبع کے برآمدی مرکز سے خام تیل کی ٹینکر لوڈنگ تاحال بحال نہیں ہوسکی۔