پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث،خیبرپختونخوا قیادت کی قیادت کی نیت خراب ہے، عطااللہ تارڑ

افغانستان سے دہشت گردوں کی تشکیلیں پاکستان آ رہی ہیں،طلال چوہدری۔ اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس

September 28, 2026 · اہم خبریں
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

 

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردوں کی تشکیلیں پاکستان آ رہی ہیں، دہشت گرد ڈالرز کے عوض کارروائیاں کرتے ہیں، خیبرپختونخوا حکومت نے سیکیورٹی فورسز کو مطلوبہ وسائل اور قیادت فراہم نہیں کی۔

اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ ڈی آئی خان امن میلہ چیک پوسٹ پر دہشت گردی کے واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت شہری شہید ہوئے، دہشت گردوں نے ریسکیو اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کارروائیوں کے بعد اپنے ساتھیوں کی تصاویر اور فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہیں۔ ڈی آئی خان حملے میں ایک دہشت گرد کی تصویر فوری طور پر سسٹم میں ڈال کر نادرا اور دیگر ریکارڈ سے چیک کی گئی تاہم اس کی کوئی شناخت نہیں ملی، اوپن سورس معلومات سے معلوم ہوا کہ وہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کا رہائشی تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ قیادت کی نیت اور طبیعت خراب ہے اور وہ اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ صوبے میں تحریک انصاف کی قیادت کالعدم ٹی ٹی پی کی ’بی‘ ٹیم ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام کی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کی قربانیاں دے چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف پی ٹی آئی کو دہشت گرد کچھ نہیں کہتے، ایسا کیوں ہے؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں کیوں چل رہی ہیں، حتیٰ کہ موٹر سائیکلوں پر بھی نمبر پلیٹ موجود نہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی صوبے میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو جان بوجھ کر قانونی دائرے میں نہیں لا رہی اور یہی گاڑیاں دہشتگرد کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن سے صوبے میں اربوں روپے جمع ہوسکتے تھے، لیکن رجسٹریشن نہیں کی گئی تاکہ دہشتگردوں کا سراغ نہ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی بھی قائم نہیں کی گئی اور نہ اسے بنانے کی خواہش نظر آتی ہے۔

وزیر اطلاعات نے سوال کیا کہ ڈی آئی خان میں شہید ہونے والے بچوں کا خون کیا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ہاتھوں پر تلاش کیا جائے؟ انہوں نے کہا کہ سیاست اپنی جگہ، لیکن دہشت گردی کے معاملے پر واضح فیصلہ کرنا ہوگا کہ افغانستان کے ساتھ ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔

عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف نے ساڑھے 12 سال سے زائد عرصے تک حکومت کی ہے، لیکن صوبے کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ کرتے ہیں۔ صوبائی حکومت بتائے کہ صحت کے شعبے میں کیا اقدامات کیے گئے۔