ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی کمی ،ڈالر 24 لاکھ 50 ہزار ریال تک پہنچ گیا
ایک ہفتہ قبل ڈالر تقریباً 23 لاکھ ریال کے قریب تھا، جبکہ ایک سال پہلے اس کی قیمت تقریباً 10 لاکھ 60 ہزار سے 11 لاکھ ریال کے درمیان تھی
ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی کمی ،ڈالر 24 لاکھ 50 ہزار ریال تک پہنچ گیا(فائل فوٹو)
تہران: ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل کمی کے باعث امریکی ڈالر کی قیمت اوپن مارکیٹ میں تقریباً 24 لاکھ 50 ہزار ریال تک پہنچ گئی ہے، جو ملکی کرنسی کی قدر میں نئی ریکارڈ کمی ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز کاروبار کے آغاز پر ایک ڈالر تقریباً 24 لاکھ 5 ہزار ریال میں دستیاب تھا، تاہم دن کے دوران امریکی کرنسی کی قیمت میں مزید اضافہ ہوا اور یہ 24 لاکھ 50 ہزار ریال کی سطح کے قریب پہنچ گئی۔
ایک ہفتہ قبل ڈالر تقریباً 23 لاکھ ریال کے قریب تھا، جبکہ ایک سال پہلے اس کی قیمت تقریباً 10 لاکھ 60 ہزار سے 11 لاکھ ریال کے درمیان تھی۔ اس طرح ایک سال کے دوران اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت تقریباً دوگنا سے زیادہ ہوچکی ہے۔
ایرانی کرنسی میں یہ گراوٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو اقتصادی دباؤ، تجارت میں رکاوٹوں اور خطے میں جاری فوجی کشیدگی کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمزور ریال اور تجارتی مشکلات ایران کی معیشت پر دباؤ میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ بالواسطہ مذاکرات کے لیے بھی سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق ثالث دونوں ممالک کے حکام سے الگ الگ ملاقاتوں کے ذریعے تہران کی جانب سے پیش کی گئی سات روزہ تجویز کے ترمیم شدہ مسودے پر بات چیت کی کوشش کر رہے ہیں
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق اختلافات بھی برقرار ہیں، جبکہ خطے میں حالیہ فوجی جھڑپوں کے باعث مزید کشیدگی کا خدشہ موجود ہے۔
معاشی ماہرین اور کاروباری حلقوں کے لیے ریال کی مسلسل گرتی قدر اہم تشویش کا باعث ہے، کیونکہ کمزور کرنسی سے درآمدی اشیا اور تجارت کے اخراجات میں اضافے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔